اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 120 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 120

120 اور جس نے نفس کشی کر کے خشن پہننے اور زخشن کھانے کو اختیار کر لیا ہو ان تکالیف کے ذکر میں مکرم میاں محمد عبداللہ خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ نواب صاحب نے ایسی قربانی کیونکر کی تھی آپ فرماتے ہیں: شروع شروع میں جب والد صاحب قادیان آئے تو ملازموں کی اور خاص کر تربیت یافتہ خادمات کی از حد دقت تھی۔مالیر کوٹلہ سے یہاں آنا کوئی پسند نہیں کرتا تھا۔قادیان کے اُجڈ لوگ ہمیں پسند نہ تھے۔اس ضمن میں بھی والد صاحب اور خالہ صاحبہ نے بہت تکلیف برداشت کی۔والد صاحب جب یہاں آئے تو آپ کو قریبا ایک دس بارہ فٹ مربعہ کمرہ اور ایک کوٹھری شاید ۸× ۸ مربعہ فٹ ملی ( یعنی حضرت سید ہ اتم متین والا حصہ دار مسیح کا غسل خانہ اور ٹی بھی جو کہ آرام کا موجب ہو سکے بعد میں بنوانی پڑی ورنہ پہلے انتظام بہت معمولی تھا۔یہ اس رئیس اور ان کی بیگم کی قادیان میں جائے رہائش تھی جو کہ ایک بڑے محل کو مالیر کوٹلہ میں چھوڑ کر آئے تھے۔میں نے والد صاحب سے دریافت کیا کہ آپ نے اس قدر بڑے مکان کو چھوڑ کر قادیان میں اتنے تنگ مکان میں آکر کسطرح گزارہ کیا۔میرے جیسا آدمی جس نے وہ آرام و آسائش نہیں دیکھے جو آپ نے اپنی زندگی میں دیکھے تھے۔اس تنگ جگہ میں گزارہ کرنا مشکل سمجھتا ہے۔آپ نے کس طرح گذران کی؟ فرمانے لگے کہ وہ زمانہ ایسا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو داغ ہجرت کا الہام ہوا تھا۔گورنمنٹ بھی ہمارے خلاف تھی لوگوں کی مخالفت بھی زوروں پر تھی۔تو میں نے مالیر کوٹلہ اس عزم وارادہ سے چھوڑا تھا کہ اب وہاں واپس نہیں جانا۔اب معلوم نہیں کہ آئندہ زندگی ہمیں ہجرت کرنے کی وجہ سے کہیں جنگلوں وغیرہ میں گزارنی پڑے گی اور جو کچھ ہمارے پاس ہے یہ بھی ہمارے پاس رہے گا یا نہیں۔سو جو کچھ ہمیں ملتا تھا۔وہ بھی غنیمت معلوم ہوتا تھا اس لئے مجھے کسی قسم کی تنگی اور تکلیف کا احساس نہیں ہوا۔“ میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب اس تعلق میں بیان کرتے ہیں کہ: اس مکان کی تنگی کی یہ حالت تھی کہ ایک کوٹھڑی میں جس میں صرف ایک پلنگ کی گنجائش تھی۔حضرت والد صاحب اور خالہ جان رہتے تھے اور ہم تینوں بھائی ساتھ کے کچھ کمرہ میں رہتے تھے۔دوسرا کچا کمرہ حضرت والد صاحب کا دفتر تھا۔جب بارش ہوتی تو ان کے گرنے کا خطرہ ہوتا۔اس لئے ہمیں حضرت والد صاحب دار ا سیخ میں اپنے پاس بلا لیتے اور ساتھ کے کمرہ میں ہم فرش پر سوتے اور موسم سرما میں تو موسم بھر ہم چاروں بہن بھائیوں کو وہاں فرش پر سونا پڑتا کیونکہ سب کے لئے چار پائیاں کمرہ میں نہ سا سکتی تھیں بیت الخلاء مکان سے بالکل باہر تھا ہمیں بان کی چار پائیاں استعمال کرنی پڑتی تھیں۔قادیان سے ضروریات دستیاب نہ ہوتی تھیں حتی کہ جلانے کے لئے ایندھن بھی حضرت والد صاحب مالیر کوٹلہ سے منگواتے تھے۔ہری کین لیمپ کے سوار وشنی کا کوئی انتظام نہ تھا۔تین چار سال اسی راہبانہ حالت میں گذر کی۔“