اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 110 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 110

110 ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ کسی وقت کوئی ایسی گھڑی آ جائے گی کہ یہ مدعا کامل طور پر ظہور میں آ جائے گا۔“ ۸۸ بقیہ حاشیہ: - قادیان یکم جنوری۔مکرم بندہ خاں صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔دل میں سخت درد پہنچتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ کا وجود اور اس کی صفت سمیع الداعین پر پُر از بصیرت یقین نہ ہو تو ایک رنجیدہ دل سے تو اس دنیا کی زندگی سے تلخ تر کوئی چیز نہ ہو۔جب یہ صحیح ہے کہ جوش کا دل میں پیدا کرنے والا وہی ہے اور دل محسوس کرتا ہے کہ حقیقی اور بلا تصنع جوش سے لبریز ہے تو کیونکر اس یقین سے سیرابی نہ ہو کہ آپکے حق میں جو دعا ئیں جار قلب سے نکل رہی ہیں ضرور ایک دن پھل لائیں گی۔مجھے اس تصور سے درد ضرور پہنچتا ہے پر تعجب نہیں پیدا ہوتا کہ آپ کے ابتلاؤں نے لنبی ( مراد لمبی ) اور بھیانک شکل پیدا کر لی ہے۔اس لئے کہ بڑوں کے ابتلاء بھی بڑے ہوتے ہیں اور اسی مقدار پر دعائیں بھی بڑی ہوتی ہیں۔رہا دعاؤں کے قبول میں توقف واقع ہونا یہ کوئی حیرت کی بات نہیں۔یہ مسلم امر ہے کہ قبول دعا میں جتنی تاخیر ہو قبول کا ہونا یقینی اور قطعی ہو جاتا ہے۔ہاں کرب اور قلق کی بات یہ ہے کہ ہمارے اخلاص اور انابت اور تنبل میں کوئی کوتا ہی ہوا اور ابتلاء اصطفاء کے رنگ میں نہ ہو۔یہ بھی ہمارے علم اور احاطہ ادراک سے باہر بات ہے۔ہم کہاں تک مغالطات نفس سے واقف ہو سکتے یا بچ سکتے ہیں۔بہر حال ہمارا کام آستانہ الوہیت پر سر رکھے رہنا ہے۔والسلام۔امید ہے کہ حضرت اقدس علیہ السلام نے آپ کو خط لکھا ہو گا۔کل میں ( نے ) عرض تو کیا تھا کہ اپنے ہاتھ سے تحریر فرما ئیں۔مولوی صاحب کی حالت صحت اطمینان رہ نہیں۔بائیں بازو کا درد بہت خوفناک مرض ہے۔اس کی شدت اکثر ہو جاتی ہے۔میری حالت الحمد اللہ ر و با فاقہ ہے۔پنج شنبہ کے دن بڑی مسجد میں حضرت نے بڑی مؤثر تقریر کی جمعہ کے دن بھی بیعت کے بعد کچھ تقریر فرمائی کل میرے سوال پر فرمایا کہ اب پیشاب میں بھی بہت فرق پیدا ہوگیا ہے۔والسلام۔خاکسارعبدالکریم۔نوٹ: میرے نزدیک یہ خط یکم جنوری ۱۹۰۵ء کا ہے۔اس کے سنہ کی تعیین یوں ہوسکتی ہے کہ یہاں پنجشنبہ اور جمعہ کا ذکر کر کے پھر کل کا ذکر کیا ہے۔گویا جمعہ کے بعد کل کا دن تھا یعنی ہفتہ اور روز تحریرا تو ار تھا۔سوا تو ار اور یکم جنوری کا اجتماع ۹۳ء ،۹۹ء اور ۱۹۰۵ء میں ہوا ہے۔میرے نزدیک یہ ۰۸ ء کا ہے۔قرائن یہ ہیں: ا مالی ابتلا ء ۱۹۰۰ ء کے ٹھیکہ سے شروع ہوا۔-1