اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 79 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 79

79 مرض پھر ہوا۔بہت دیر تک رہا۔مالش کرانے سے صورت افاقہ ہوئی۔مگر بہت ضعف ہے اللہ تعالیٰ شفا بخشے۔اس جگہ ہماری جماعت کا ایک قافلہ تحقیق السنہ کے لئے بہت جوش سے کام کر رہا ہے اور یہ اسلام کی صداقت پر ایک نئی دلیل ہے جو تیرہ سو برس سے آج تک کسی کی اس طرف توجہ نہیں ہوئی۔اس مختصر خط میں میں آپ کو سمجھا نہیں سکتا کہ یہ کس پایہ کا کام ہے۔اگر آپ ایک ماہ تک اس خدمت میں مرزا خدا بخش صاحب کو شریک کریں اور وہ قادیان میں رہیں تو میری دانست میں بہت ثواب ہوگا آئندہ جیسا آپ کی مرضی ہو، دنیا کے کام نہ تو کبھی کسی نے پورے کئے اور نہ کرے گا۔دنیا دار لوگ نہیں سمجھتے کہ ہم کیوں دنیا میں آئے اور کیوں جائیں گے؟ کون سمجھاوے جب کہ خدا تعالیٰ نے نہ سمجھایا ہو دُنیا کے کام کرنا گناہ نہیں۔مگر مومن وہ ہے جو در حقیقت دین کو مقدم سمجھے اور جس طرح اس ناچیز اور پلید دنیا کے کام یابیوں کے لئے دن رات سوچتا یہاں تک کہ پلنگ پر لیٹے بھی فکر کرتا ہے اور اس کی ناکامی پر سخت رنج اٹھاتا ہے۔ایسا ہی دین کی غم خواری میں مشغول رہے۔دنیا سے دل لگا نا بڑا دھوکا ہے۔موت کا ذرا اعتبار نہیں موت ہر یک آئے سال نئے کرشمے دکھلاتی رہتی ہے۔دوستوں کو دوستوں سے جدا کرتی اور لڑکوں کو باپوں سے اور باپوں کو لڑکوں سے علیحدہ دیتی ہے۔مورکھ وہ انسان ہے جو اس ضروری سفر کا کچھ بھی فکر نہیں رکھتا۔خدا تعالیٰ اس شخص کی عمر کو بڑھا دیتا ہے جو سچ مچ اپنی زندگی کا طریق بدل کر خدا تعالیٰ کا ہی ہو جاتا ہے ورنہ اللہ جل شانہ فرماتا ہے۔قُلْ مَا يَعْبَتُوا بِكُمُ رَبِّي لَوْ لَا دُعَاؤُكُمُ یعنی ان کو کہ دو کہ خدا تعالیٰ تمہاری پر واہ کیا رکھتا ہے اگر تم اس کی بندگی اور عبادت نہ کرو۔سو جا گنا چاہیئے اور ہوشیار ہونا چاہئے اور غلطی نہیں کھانا چاہیئے کہ یہ گھر سخت بے بنیاد ہے۔میں نے اس لئے لکھا کہ میں اگر غلطی نہیں کرتا تو مجھے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ان دنوں میں دنیوی ہم و غم میں اعتدال سے زیادہ مصروف ہیں اور دوسرا پلہ ترازو کا کچھ خالی سا معلوم ہوتا ہے میں نہیں جانتا کہ یہ تحریر میں آپ کے دل پر کیا اثر کریں یا کچھ بھی اثر نہ کریں۔کیونکہ بقول آپ کے وہ اعتقادی امر بھی اب درمیان نہیں جو بظاہر پہلے تھا۔میں نہیں چاہتا کہ ہماری جماعت میں سے کوئی بھی ہلاک ہو۔بلکہ چاہتا ہوں کہ خود خدا تعالیٰ قوت بخشے اور زندہ کرے۔کاش اگر ملاقات کی ہی سرگرمی آپ کے دل میں باقی رہتی تو کبھی کبھی کی ملاقات سے کچھ فائدہ ہو جاتا۔مگر اب یہ امید بھی مشکلات میں پڑ گئی کیونکہ اعتقادی محرک باقی نہیں رہا۔اگر کوئی لاہور وغیرہ میں کسی انگریز حاکم کا جلسہ ہو جس میں خیالی طور پر داخل ہونا آپ اپنی دنیا کے لئے مفید سمجھتے ہوں تو کوئی دنیا کا کام آپ کو اس شمولیت سے نہیں روکے گا۔خدا تعالیٰ قوت بخشے۔بیچاره نورالدین جو دنیا کو عموماً لات مار کر اس جنگل قادیان میں آبیٹھا ہے بے شک قابل نمونہ ہے۔بہتیری تحریکیں ہوئیں کہ آپ لاہور میں رہیں اور امرتسر میں رہیں دنیاوی فائدہ طبابت کی رو سے بہت ہوگا مگر کسی کی