اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 80 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 80

80 بات انہوں نے قبول نہیں فرمائی میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ انہوں نے کچی تو بہ کر کے دین مقدم رکھ لیا ہے۔خدا تعالیٰ ان کو شفا بخشے اور ہماری جماعت کو توفیق عطا کرے کہ ان کے نمونہ پر چلیں۔آمین۔کیا آپ بالفعل اس قدر کام کر سکتے ہیں کہ ایک ماہ کے لئے اور کاموں کو پس انداز کر کے مرزا خدا بخش صاحب کو ایک ماہ کے لئے بھیج دیں۔والسلام۔خاکسار غلام احمد از قادیان ۲۸ را پریل ۱۸۹۵ء 21 حضرت نواب صاحب کا شبہ نیک نیتی اور اخلاص پر مبنی تھا نہ کہ محض تعصب اور بے جا ضد پر اور حضرت اقدس کے دل میں آپ کے لئے درد تھا۔سو اللہ تعالیٰ نے حضور کی دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا اور ان کے دل کو نور سے منور کر دیا۔نواب صاحب جنہوں نے لکھا تھا کہ : میں نہایت بھرے دل سے التجا کرتا ہوں کہ اگر فی الواقعہ بچے ہیں تو خدا کرے کہ میں آپ سے علیحدہ نہ ہوں۔وہ ہمیشہ کے لئے حضور کے ہو گئے اور حضور جو فر زندوں کی طرح ان کو عزیز سمجھتے تھے حضور نے ظاہراً بھی ان کو فرزندی میں لے لیا۔نواب صاحب کی سابقہ حالت جو ہر ستمبر ۹۴ء کو آتھم کی میعاد کے ختم ہونے پر شروع ہوئی تھی دسمبر ۹۵ء میں بکلی متغیر بخیر ہو چکی تھی اور آپ کا پورا رجوع حضرت اقدس کی طرف ہو چکا تھا۔اور یہ امر حضور کے دسمبر ۹۵ء کے ذیل کے مکتوب سے ظاہر ہے۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم عزیزی مجی اخویم خانصاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا محبت نامہ پہنچا۔میں بوجہ علالت طبع کچھ لکھ نہیں سکا کیونکہ دورہ مرض کا ہو گیا تھا اور اب بھی طبیعت ضعیف ہے خدا تعالیٰ آپ کو اپنی محبت میں ترقی بخشے اور اپنی اس جاودانی دولت کی طرف کھینچ لیوے۔جس پر کوئی زوال نہیں آسکتا۔کبھی کبھی اپنے حالات خیریت آیات سے ضرور اطلاع بخشا کریں۔کہ خط بھی کسی قدر حصہ ملاقات کا بخشتا ہے۔مجھے آپ کی طرف دلی خیال ہے اور چاہتا ہوں کہ آپ کی روحانی ترقیات بچشم خود دیکھوں مجھے جس وقت جسمانی قوت میں اعتدال پیدا ہوا تو آپ کے لئے سلسلہ توجہ کا شروع کروں گا۔اللہ تعالے اپنا فضل اور توفیق شامل حال کرے آمین والسلام۔غلام احمد عفی عنہ۔عاجز غلام احمد عفی ۱۴ دسمبر ۱۸۹۵ء روز پنجشنبه (مکتوب نمبر ۶) اس کی تاریخ ۱۴ار دسمبر ۱۸۹۵ء درج ہے لیکن جنتری کے لحاظ سے اس روز شبنہ تھا۔۱۸۹۰ء سے ۱۹۰۷ ء تک