اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 31 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 31

31 کرتے۔نواب صاحب کی پرورش ابتدا سے ہی مذہبی ماحول میں ہوئی تھی۔آپ پر مذہب کا عملی اثر تھا۔رفتہ رفتہ حضرت مسیح موعود کا ( جن کا اس وقت کوئی دعوی نہ تھا ) ذکر آپ تک پہنچا۔اور جب حضور نے مالیر کوٹلہ کا۔سفر کیا تھا تو اسوقت بھی آپ کا نام ایک متقی اور خدارسیدہ بزرگ کی حیثیت میں سُنا ہوگا۔نواب صاحب افسوس کیا کرتے تھے کہ حضور کی مالیر کوٹلہ میں آمد کے موقعہ پر وہ مالیر کوٹلہ میں نہ تھے بلکہ تعلیم کی خاطر مالیر کوٹلہ سے باہر گئے ہوئے تھے۔نواب صاحب نے حضرت اقدس سے خط و کتابت ۱۸۸۹ء میں شروع کی لیکن حسنِ ظنی کا دور بقیہ حاشیہ : - حسد و عداوت ہے جس کے ظاہری دو سبب ہیں ایک یہ کہ ان کو اپنی جہالت ( نہ اسلام کی ہدایت ) سے گورنمنٹ انگلشیہ سے جہاد و بغاوت کا اعتقاد ہے اور اس کتاب میں اس گورنمنٹ سے جہاد و بغاوت کو نا جائز لکھا ہے۔لہذا وہ لوگ اس کتاب کے مؤلف کو منکر جہاد سمجھتے ہیں۔اور از راہ تعصب و جہالت اس کے بعض و مخالفت کو اپنامذہبی فرض خیال کرتے ہیں۔مگر چونکہ وہ گورنمنٹ کے سیف واقبال کے خوف سےا علانیہ طور پر ان کو منکر جہاد نہیں کہہ سکتے اور نہ سر عام مسلمانوں کے روبرو اس وجہ سے ان کو کافر بنا سکتے ہیں۔لہذا وہ اس وجہ سے کفر کو دل میں رکھتے ہیں اور بجز خاص اشخاص ( جن سے ہم کو یہ خبر پہنچی ہے ) کسی پر ظاہر نہیں کرتے اور اس کا اظہار دوسرے لباس و پیرایہ میں کرتے اور یہ کہتے ہیں کہ براہین احمدیہ میں فلاں فلاں امور کفر یہ دعوی نبوت اور نزول قرآن اور تحریف آیات قرآنیہ پائی جاتی ہیں ) اس لئے اس کا مؤلف کا فر ہے۔موقعه جلسه دستار بندی مدرسہ دیوبند پر یہ حضرات بھی وہاں پہنچے اور لمبے لمبے فتویٰ تکفیر مؤلف براہین احمدیہ کے لکھ کر لے گئے اور علماء دیوبند گنگوہ وغیرہ سے ان پر دستخط ومواہیر ثبت کرنے کے خواستگار ہوئے مگر چونکہ وہ کفران کا اپنا خانہ ساز گفر تھا جس کا کتاب براہین احمدیہ میں کچھ اثر پایا نہ جاتا لہذا علماء دیوبند و گنگوہ نے ان فتوؤوں پر مہر و دستخط کرنے سے انکار کیا اور ان لوگوں کو تکفیر مؤلف سے روکا اور کوئی ایک عالم بھی ان کا اس تکفیر میں موافق نہ ہوا جس سے وہ بہت ناخوش ہوئے اور بلا ملاقات وہاں سے بھاگے اور گانهُمْ حُمُرٌ مُسْتَنْفِرَةٌ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَةٍ کے مصداق ہے۔لا ناظرین ان کا یہ حال سُن کر متعجب اور اس امر کے منتظر ہونگے کہ ایسے دلیر اور شیر بہا درکون ہیں جو سب علماء وقت کے مخالف ہو کر ایسے جلیل القدر مسلمان کی تکفیر کرتے ہیں اور اپنی مہربان گورنمنٹ کے (جس کے ظل حمایت میں با امن شعار مذہبی ادا کرتے ہیں ) جہاد کو جائز سمجھتے ہیں۔ان کے دفع تعجب اور رفع انتظار کے لئے ہم ان حضرات کے نام بھی ظاہر کر دیتے ہیں۔وہ مولوی عبدالعزیز ومولوی محمد وغیرہ پسران مولوی عبد القادر ہیں۔۔۔۔۔۔۔