اصحاب احمد (جلد 2) — Page 665
665 تھے کہ قصوروں یا غلطیوں پر بھی جس پیار اور دلداری کے ساتھ نصیحت حضور کی ہوتی تھی وہ اوروں کی ہزار محبت سے بال تھی۔خط ایسا تحریر فرماتے کہ زخموں پر گویا مرہم لگ جاتا اور دُکھ سب کے سب بھول جاتے تھے۔نیز فرماتی ہیں کہ بیچ کا رہنا سہنا نوکر چھوٹی عقل کے متعلقین دونوں جانب کے آخر جیسے ہوتے ہیں۔ویسے ہی تھے۔کوئی غلط فہمی یا شکایت ہو جاتی تو حضور اس کو ظاہر فرماتے دریافت کرتے اور پھر حقیقت کا علم ہونے پر نہایت محبت سے عذر کو قبول فرما کر الٹی اور بھی دلداری شروع کرتے کہ سر اس ابر کرم کے باراحسان سے اور بھی جھک جاتا۔میاں عبدالرحیم صاحب کی علالت کے دنوں میں حضرت نے بے حد فکر اور توجہ مبذول رکھی۔ہر وقت خود آتے اور دیکھتے اور بھی ہر موقعہ پر خبر گیری اور ویسے بھی ہر تکلیف کو پوچھتے رہنا۔سیر کو جاتے ہوئے میرے آنے کا انتظار کرنا۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی طرح حضرت اُم المومنین نوراللہ مرقدہا کا مشفقانہ سلوک بھی یقیناً نواب صاحب اور آپ کے اہل و عیال کے ازدیاد ایمان کا موجب ہوا۔اس مقدس جوڑا کی تربیت یافتہ دو دختران کا نواب صاحب اور آپ کے ایک فرزند کے حبالہ نکاح میں آنا جنتی زندگی عطا ہونے کے مترادف تھا۔حضرت اقدس کا تو اس وقت وصال ہو چکا تھا۔حضرت ام المومنین کی شفقت بے پایاں حضور کی کمی کو پورا کرتی تھی۔حضرت اماں جان کی کیسی پاکیزہ تربیت تھی۔آپ نے سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو شادی کے وقت جو ذیل کی نصائح فرما ئیں ان سے ان کا اندازہ ہوتا ہے:۔اپنے شوہر سے پوشیدہ یا وہ کام جس کو ان سے چھپانے کی ضرورت سمجھو ہرگز کبھی نہ کرنا۔شوہر نہ دیکھے مگر خدا دیکھتا ہے۔اور بات آخر ظاہر ہو کر عورت کی وقعت کو کھو دیتی ہے۔اگر کوئی کام ان کی مرضی کے خلاف سرزد ہو جائے تو ہرگز کبھی نہ چھپانا۔صاف کہہ دینا۔کیونکہ اس میں عزت ہے اور چھپانے میں آخر بے عزتی اور بے وقری کا سامنا ہے۔کبھی ان کے غصہ کے وقت نہ بولنا۔تم پر یا کسی نوکر یا بچہ پر خفا ہوں اور تم کو علم ہو کہ اس وقت یہ حق پر نہیں ہیں جب بھی اس وقت نہ بولنا۔غصہ نظم جانے پر پھر آہستگی سے حق بات اور ان کا غلطی پر ہونا ان کو سمجھا دینا۔غصہ میں مرد سے بحث کرنے والی عورت کی عزت باقی نہیں رہتی اگر غصہ میں کچھ سخت کہہ دیں تو کتنی ہتک کا موجب ہو۔