اصحاب احمد (جلد 2) — Page 664
664 ٹھہر کر احباب سے گفتگو فرماتے رہتے اور والد صاحب کے آنے پر سیر کے لئے تشریف لے جاتے۔والد صاحب کو حضور کی اس انتظار کی وجہ سے تکلیف بھی ہوتی۔لیکن اپنے حالات سے مجبور تھے کیونکہ ان کو ہمیشہ سے پیشاب کی کثرت کا مرض تھا۔لیکن جس وقت آپ کا رشتہ حضور علیہ السلام کے ہاں ہو گیا تو پھرا قارب میں سے ہو جانے کی وجہ سے حضورا نتظار نہیں فرماتے تھے“۔حضرت اقدس کی توجہ نواب صاحب کی طرف منعطف ہوتی تھی حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کے ذیل کے مکتوب بنام نواب صاحب سے ظاہر ہے: قادیان ۷ فروری جناب خان صاحب السلام عليكم ورحمة الله وبركاته آپ کا نو از شنا مہ ملا۔میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ حضرت اقدس کو آپ کی وہ فکر ہے جو کسی مہربان باپ کو اپنے بیٹے کی نہیں ہوتی۔بہت ہی دھیان ہے اور گاه و بیگاہ آپ کا تذکرہ کرتے ہیں۔جو کچھ میں نے پہلے خط میں لکھا ہے حضرت کے الفاظ ہیں اور بار بار فرمائے ہوئے۔اپنی تجویزوں پر ثابت قدمی سے عمل در آمد کریں اور خدا تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں۔والسلام خاکسار عبدالکریم حضرت اقدس کی اس شفقت و محبت کا جو اثر نواب صاحب پر ہوا وہ آپ کی زبانی سنیئے۔جب آپ ہجرت کر کے آئے اور دار اسیح میں قیام کیا ان ایام کے متعلق حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ نواب صاحب فرمایا کرتے تھے کہ جس لطف اور روحانی سرور میں وہ دن گزرے نہ اس سے پہلے دیکھے نہ بعد میں۔کھانا کئی ماہ تک مہمانداری کے طور پر ساتھ رکھا اور الگ ہونے پر بھی بہت خیال رکھتے رہے یعنی کوئی اچھا کھانا اور پھل وغیرہ بھجواتے رہے۔حضرت مسیح موعود کی شفقت و محبت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میں اس کی نظیر نہ دے سکتا ہوں نہ پھر پاسکتا ہوں۔وہ محبت۔وہ نرمی۔وہ رحم وکرم کسی جگہ نظر نہیں آ سکتا۔حضرت خلیفہ اول نواب صاحب سے بے حد محبت فرماتے تھے اور اکثر مجھ سے بھی نواب صاحب ذکر کرتے کہ مجھے خلیفہ اول سے بہت محبت ہے تم سمجھ نہیں سکتی ہو۔مجھے بے حد محبت ہے مگر نواب صاحب کو حضرت مسیح موعود کی محبت اور مہربانی کے بعد پھر ان کی محبت تک کا بھی وہ مزا نہ آیا۔نواب صاحب حضرت مسیح موعود کی محبت اور مہربانی اور شفقت اور پیار کو وفات تک نہایت درد کے ساتھ یاد کرتے رہتے فرماتے