اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 661 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 661

661 ہے کہ کمشنر کے پاس آپ ہی جائیں اور دوسری کوئی تدبیر نہیں ؟ غرض میری بھی یہی رائے ہے کہ یہ کاروبار آپ پر ہی موقوف ہے تو اگست اور ستمبر تک التوا کیا جائے۔اور اگر ا بھی ضروری ہے تو آپ کے بھائی یہ کام کریں۔ڈرتا ہوں کہ آپ بیمار نہ ہو جائیں۔خط واپس ہے اس وقت مجھے بہت سر درد ہے۔زیادہ نہیں لکھ سکتا۔والسلام خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ اسی طرح حضور آپ کو تحریر فرماتے ہیں :۔بسم الله الرحمن الرحيم محبی عزیزی نواب صاحب ۴۵۸ نحمده ونصلى على رسوله الكريم السّلام عليكم ورحمة الله وبركاته آج مولوی مبارک علی صاحب جن کی نسبت آپ نے برخاستگی کی تجویز کی تھی،حاضر ہوگئے ہیں۔چونکہ وہ میرے استاد ہیں اور مولوی فضل احمد صاحب والد بزرگواران کے جو بہت نیک اور بزرگ آدمی تھے ان کے میرے پر حقوق استادی ہیں۔میری رائے ہے کہ اب کی دفعہ آپ ان کی لمبی رخصت پر اغماض فرما دیں کیونکہ وہ رخصت بھی چونکہ کمیٹی کی منظوری سے تھی کچھ قابل اعتراض نہیں۔ماسوا اس کے چونکہ وہ واقعہ میں ) ہم پر ایک حق رکھتے ہیں اور عفو اور کرم سیرت ابرار میں سے ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا اَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَكُمْ ۴۵۹ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ - یعنی تم عفو اور درگزر کی خُو ڈالو۔کیا تم نہیں چاہتے کہ خدا بھی تمہاری تقصیر میں معاف کرے اور خدا تو غفور رحیم ہے۔پھر تم غفور کیوں نہیں بنتے۔اس بناء پر ان کا یہ معاملہ در گذر کے لائق ہے۔اسلام میں یہ اخلاق ہر گز نہیں سکھلائے گئے۔ایسے سخت قواعد نصرانیت کے ہیں اور ان سے خدا ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔ماسوا اس کے چونکہ میں ایک مدت سے آپ کے لئے دعا کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں ان کے گناہ معاف کرتا ہوں جو لوگوں کے گناہ معاف کرتے ہیں اور یہی میرا تجربہ ہے۔پس ایسا نہ ہو کہ آپ کی سخت گیری کچھ آپ ہی کی راہ میں ط تاریخ مکتوب درج نہیں۔اندرونی شہادت سے ظاہر ہے کہ (۱) موسم گرما قبل اگست کا ہے۔(۲) اس سے قبل مکرم میاں محمد عبد اللہ خان صاحب کا سفر میں بیمار ہونے کا واقعہ قریب ہوا تھا اور وہ ۱۹۰۴ء کی بات ہے۔گویا کہ یہ مکتوب موسم گر ما۱۹۰۴ء کا ہے۔