اصحاب احمد (جلد 2) — Page 662
662 سنگ راہ نہ ہو۔ایک جگہ میں نے دیکھا ہے کہ ایک شخص فوت ہو گیا جس کے اعمال کچھ اچھے نہ تھے۔اس کو کسی نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ نے تیرے ساتھ کیا معاملہ کیا۔اس نے کہا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بخش دیا۔اور فرمایا کہ تجھے میں یہ صفت تھی کہ تو لوگوں کے گناہ معاف کرتا تھا اس لئے میں تیرے گناہ معاف کرتا ہوں۔سو میری صلاح یہی ہے کہ آپ اس امر سے در گذر کرو تا کہ آپ کو خدا تعالیٰ کی جناب میں درگزر کرانے کا موقعہ ملے۔اسلامی اصول انہی باتوں کا چاہتے ہیں۔دراصل ہماری جماعت کے ہمارے عزیز دوست جو خدمت مدرسہ پر لگائے گئے ہیں وہ ان طالب علم لڑکوں سے ہمیں زیادہ عزیز ہیں جن کی نسبت ہمیں ابھی تک معلوم نہیں کہ نیک معاش ہونگے یا بد معاش والسلام خاکسار غلام احمد عفی عنہ یہ سچ ہے کہ تمام اختیارات آپ رکھتے ہیں مگر یہ محض بطور نصیحتا اللہ لکھا گیا ہے۔اختیارات سے کام چلانا بڑا نازک امر ہے۔اس لئے خلفاء راشدین نے اپنے خلافت کے زمانہ میں شوریٰ کو سچے دل سے اپنے ساتھ رکھا تا اگر خطا بھی ہو تو سب پر تقسیم ہو جائے نہ صرف ایک کی گردن پر۔حضور ۲۱ / جولائی ۱۸۹۸ء کو نواب صاحب کو تحریر فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ آپ کو ہر ایک مرض اور غم سے نجات بخشے۔آمین ثم آمین۔۔۔میں عنقریب دوائی طاعون آپ کی خدمت میں مع مرہم عیسی روانہ کرتا ہوں اور جس طور سے یہ دوائی استعمال ہوگی اس کا اشتہار ہمراہ بھیج دوں گا۔بہتر ہے کہ یہ دوا ابھی سے آپ شروع کر دیں۔میرے نزدیک ان دنوں میں دنیا کے عموم و ہموم کچھ مختصر کرنے چاہئیں۔دن بہت سخت ہیں۔۔۔اور جو گلٹیاں آپ کے نکلی ہیں وہ انشاء اللہ سینک دینے اور دوسری تدبیروں سے جو مولوی صاحب تحریر فرمائیں گے اچھی ہو جائیں گی میں نے خط کے پڑھنے کے بعد آپ کے لئے بہت دعا کی ہے اور امید ہے کہ خدائے تعالیٰ قبول فرمائے گا۔مجھے اس بات کا خیال ہے کہ اس شور قیامت کے وقت جس کی مجھے الہام الہی سے خبر ملی ہے حتی الوسع اپنے عزیز دوست قادیان میں ہوں۔حضور کی شفقت بے پایاں کا علم ۲۰ / جون ۱۸۹۹ ء کی ذیل کی عبارت سے بھی ہوتا ہے کہ حضور کس درجہ علیل ہیں باوجود اس کے نواب صاحب کے استفسار پر ان کی اہلیہ کے لئے علاج کے متعلق تفصیلی مکتوب