اصحاب احمد (جلد 2) — Page 660
660 ۶ را پریل ۱۸۹۲ء کو نواب صاحب کو خدا کا خوف بڑھانے کی نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں: کل کی ڈاک میں آں صحت کا عنایت نامہ مجھ کو ملا۔آپ کی محبت اور اخلاص اور ہمدردی میں کچھ شک نہیں۔ہاں میں ایک استاد کی طرح جو شاگردوں کی ترقی چاہتا ہے آئندہ کی زیادہ قوت کے لئے اپنے مخلصوں کے حق میں ایسے الفاظ بھی استعمال کرتا ہوں جن سے وہ متنبہ ہو کر اپنی اعلیٰ سے اعلیٰ قو تیں ظاہر کریں اور دُعا یہی کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ان کی کمزوریاں دُور فرمادے میں دیکھتا ہوں کہ اس دنیا کا تمام کاروبار اور اس کی نمائش اور عزتیں حباب کی طرح ہیں۔اور نہایت سعادت مندی اسی میں ہے کہ پورے جوش سے اور پوری صحت کے ساتھ دین کی طرف حرکت کی جائے۔اور میرے نزدیک بڑے خوش نصیب وہ ہیں کہ اس وقت میری آنکھوں کے سامنے دکھ اٹھا کر اپنے بچے ایمان کے جوش دکھا دیں۔۔۔اس لئے میں بار بار کہتا ہوں کہ خدا کا خوف بہت دل میں بڑھا لیا جائے تا اس کی رحمتیں نازل ہوں اور تا وہ گنا بخشے۔۴۵۷ حضور نے ایک بار تحریر فرمایا: بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم مجی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ۔السلام عليكم ورحمة الله وبركاته آپ کا عنایت نامہ مجھ کو ملا۔خدا تعالیٰ آپ کو ان مشکلات سے نجات دے۔علاوہ اور باتوں کے میں خیال کرتا ہوں کہ جس حالت میں شدت گرمی کا موسم ہے اور بباعث قلت برسات یہ موسم اپنی طبعی حالت پر نہیں اور آپ کی طبیعت پر سلسلہ اعراض اور امراض کا چلا جاتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ آپ در حقیقت بہت کمزور اور نحیف ہورہے ہیں اور جگر بھی کمزور ہے۔عمدہ خون بکثرت پیدا نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں آپ کا ر سفر تحمل کرنا میری سمجھ میں نہیں آتا۔کیوں اور کیا وجہ کہ آپ کے چھوٹے بھائی سردار ذوالفقار علی خان صاحب جو صحیح اور تندرست ہیں ان تکالیف کا عمل نہ کریں۔اگر موسم سرما ہوتا تو کچھ بھی مضائقہ نہ تھا۔مگر یہ موسم آپ کے مزاج کے نہایت ناموافق ہے جو مشکلات پیش آتی ہیں وہ بے صبری اور بیجا شتابکاری سے دُور نہیں ہو سکتیں۔صبر اور متانت اور آہستگی اور ہوشمندی سے ان کا علاج طلب کرنا چاہئے۔ایسانہ ہو کہ آپ اس خطر ناک موسم میں سفر کریں اور خدانخواستہ کسی بیماری میں مبتلا ہو کر موجب شماتت اعداء ہوں۔پہلے سفر میں کیسی کیسی حیرانی پیش آئی تھی اور لڑکے کے بیمار ہونے سے کس قدر مصائب کا سامنا پیش آ گیا تھا۔کیا یہ ضروری شدائد