اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 651 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 651

651 ہیں۔جن کو اس کا تجربہ ہے ہمنشیں تو از توبہ باید دیں بفزاید تا ترا عقل آپ صاف آئینہ کو ایک صاف مکان میں رکھ دیں۔تھوڑے عرصے کے بعد آپ دیکھیں گے کہ اردگرد سے نا معلوم طور سے گرد آ کر اس پر جم گئی ہے اور اگر چند ایام اس کو اسی طرح رکھا رہنے دیا جائے تو آخر کا راس کی حالت ایسی ہو گی کہ اس میں سے کوئی چیز نہ دیکھ سکے گا۔یہی حالت انسان کے قلب کی ہے اس پر بھی نا معلوم طور سے زنگ جمتی رہتی ہے پھر وہ نہایت مکر رہو جاتا ہے اگر بہت ہی مدت گزر جائے تو پھر ایسی زنگ جمتی ہے کہ ختم الله عـلـى قلوبهم و على سمعهم كا مصداق بن جاتا ہے۔پھر اس کا صیقل ہونا مشکل بلکہ ناممکن ہو جاتا ہے۔پس جس طرح ہر ایک آئینہ کے لئے ضروری ہے کہ اس پر ہر روز ہاتھ پھیرتا رہے اسی طرح قلب کی بھی ہمیشہ صفائی ہوتی رہے تب وہ ٹھیک رہتا ہے۔ر جس مسیح موعود اور امام آخر زماں مہدی معہود کی تمام دنیا منتظر تھی جب کہ ہم نے اس کو پالیا تو کس طرح پر ہم اس کے قدموں سے علیحدہ ہو سکتے ہیں ؟ اب تو ہماری دعا ہے کہ اسی کے بابرکت آستانہ پر ہمارا خاتمہ بخیر ہو۔آمین ثم آمین۔میں اپنی بڑی خوش قسمتی سمجھتا ہوں خدا وند تعالے نے مجھے اس سعادت کے حاصل کرنے کا موقعہ دیا اور میں ان لوگوں کی بڑی بد قسمتی سمجھتا ہوں جو اس آستانہ مبارکہ سے الگ ہیں۔اب جناب ہی غور فرمائیں میں اپنے مالک حقیقی کا حکم مانوں یا جناب کے ارشاد کی تعمیل کروں۔باقی رہا جناب کا تشریف لانا سو یہ میرے لئے موجب سعادت ہے ہمائے اوج سعادت بدام ما افتد اگر ترا قدم بر مقام ما افتد مگر اگر میرے لے جانے کے لئے ہی آنا مقصود ہے تو جو کچھ میں نے عرض کیا وہی ہے اور ویسے جناب کے آنے میں میری اور آپ دونوں کی سعادت ہے خداوند تعالیٰ آپ کو بھی ہدایت عطا فرمائے“۔معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ آپ ہجرت کر چکے تھے اس لئے جب بھی آپ قادیان سے بعض ضروری ذاتی امور کی سرانجام دہی کے لئے تشریف لے جاتے تھے تو اجازت حاصل کر لیتے تھے چنانچہ آپ کو ایک دفعہ ۱۹۱۳ء میں باہر جانے کی ضرورت پیش آئی تو آپ نے جو خط حصول اجازت کے لئے لکھا وہ اور اس کا جواب درج ذیل کیا جاتا ہے: