اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 650 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 650

650 ۴۴۹ کے حالات وغیرہ کو آنکھ سے دیکھو۔ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری رہنمائی کرے۔" جب حضرت نواب صاحب کے برادر بزرگوار نے چاہا کہ آپ قادیان سے مالیر کوٹلہ واپس چلے آئیں تو کیسے خیالات زرین کا آپ نے اپنے مکتوب ۰۲-۹-۱۹ میں اظہار کیا۔چنانچہ آپ تحریر نے تحریر فرمایا: والا نامہ پہنچا۔جواباً عرض ہے جناب نے شفقت بزرگانہ سے جو کچھ تحریر فرمایا جناب کی شفقت اس کی مقتضی تھی مگر جناب کو غالباً ان امور کی اطلاع نہیں جن امور کے لئے میں نے قادیان میں سکونت اختیار کی ہے میں نہایت صفائی سے ظاہر کرتا ہوں کہ مجھ کو حضرت اقدس مسیح موعود مہدی مسعود کی بیعت کئے ہوئے بارہ سال ہو گئے اور میں اپنی شومئی طالع سے گیارہ سال گھر ہی میں رہتا تھا اور قادیان سے مہجور تھا۔صرف چند دنوں گاہ گاہ یہاں آتا رہا اور دنیا کے دھندوں میں پھنس کر بہت سی اپنی عمر ضائع کی۔آخر جب سوچا تو معلوم کیا کہ عمر تو ہوا کی طرح اڑ گئی اور ہم نے نہ کچھ دین کا بنایا اور نہ دنیا کا اور آخر مجھ کو شعر یاد آیا کہ ہم خدا خواہی ہم دنیائے دوں این خیال است و محال است و جنوں ” یہاں میں چھ ماہ کے ارادہ سے آیا تھا مگر یہاں آ کر میں نے اپنے تمام معاملات پر غور کیا تو آخر یہی دل نے فتوی دیا کہ دنیا کے کام دین کے پیچھے لگ کر تو بن جاتے ہیں مگر جب دنیا کے پیچھے انسان لگتا ہے تو دنیا بھی ہاتھ نہیں آتی اور دین بھی برباد ہو جاتا ہے۔اور میں نے خوب غور کیا تو میں نے دیکھا کہ گیارہ سال میں نہ میں نے کچھ بنایا اور نہ میرے بھائی صاحبان نے کچھ بنایا اور دن بدن ہم با وجود اس مایوسانہ حالت کے دین بھی برباد کر رہے ہیں۔آخر یہ سمجھ کر کہ کار دنیا کے تمام نہ کرو کوٹلہ کو الوداع کہا اور میں نے مصمم ارادہ کر لیا کہ میں ہجرت کرلوں۔سوالحمد اللہ میں بڑی خوشی سے اس بات کو ظاہر کرتا ہوں کہ میں نے کوٹلہ سے ہجرت کر لی ہے اور شرعاً مہاجر پھر اپنے وطن میں واپس اپنے ارادہ سے نہیں آ سکتا۔یعنی اس کو گھر نہیں بنا سکتا۔ویسے مسافرانہ وہ آئے تو آئے۔پس اس حالت میں میرا آنا محال ہے۔میں بڑی خوشی اور عمدہ حالت میں ہوں۔ہم جس شمع کے پروانے ہیں اس سے الگ کس طرح ہو سکتے ہیں؟ کہاں کوٹلہ میں تنہا رہنا یا اگر کوئی ملا تو وہ ہم مذاق نہیں بری صحبت۔خلاف شریعت امور میں مبتلا۔آخر ایسے لوگوں کی صحبت سے جو زنگ ایک شخص کے دل پر بیٹھ سکتا ہے اس کو وہی سمجھ سکتے