اصحاب احمد (جلد 2) — Page 649
649 ۴۴۸ آپ کے لئے قرہ عینی فی الصلواۃ کا مصداق تھا۔آپ کی ڈائری ظاہر کرتی ہے کہ آپ کا بیشتر وقت مشاغل دینیہ اور خدمات سلسلہ کے لئے وقف تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی مجالس میں حاضری۔نمازوں میں با قاعدگی۔تلاوت قرآن مجید - تہجد گزاری کا آپ کو ذوق و شوق تھا۔کبھی حضور کی مجلس میں نہیں جا سکے تو آپ نے مجالس کی باتیں دوسروں سے سنیں۔حضور کے فرمودہ وعظ ونصیحت کو آپ ڈائری میں درج کرتے ہیں۔یہی جذبہ محبت دین تھا جو آپ کو بھینچ کر قادیان لے آیا اور باوجود صد ہا ضروریات کے آپ ہجرت کرنے کے بعد اسے ترک کرنے پر آمادہ نہ ہوتے تھے۔یہ دین کی محبت کا جذ بہ آپ میں اسقدر شدید تھا کہ اس کے اظہار کے لئے میں آپ ہی کے مختلف خطوط وغیرہ سے اقتباس درج کر دیتا ہوں۔آپ ۱۴ نومبر ۱۹۰۱ء کو قادیان پہنچے۔جس قدر آپ کے قلب مطہر میں قادیان کے لئے اُنس تھا وہ آپ کے ان الفاظ سے ظاہر ہے : گیارہ بجے بٹالہ پہنچے۔فورا رتھ میں سوار ہو کر قادیان کے لئے روانہ ہوئے۔رتھ کے ہچکولے کھاتے گرد پھانکتے روانہ ہوئے قادیان پہنچے۔آرزو دارم که خاک آں قدم طوطیائے چشم سازم د میدم آپ تین ہفتہ قادیان میں قیام کر کے مالیر کوٹلہ واپس گئے تو جس قدر بے قراری قادیان کی جدائی کی وجہ سے آپ محسوس کرتے تھے وہ آپ کے ان الفاظ سے ظاہر ہے: جتنے دن میں کوٹلہ میں رہا وحشت ، ہول دل لگارہا۔طبیعت ایک دن بھی خوش نہیں رہی۔(ڈائری مورخہ ۲۱ دسمبر ۱۹۰۲ء) اور جب آپ ۲۳ / دسمبر کو واپس قادیان پہنچ گئے تو جو اطمینان آپ کو حاصل ہوا اس بارہ میں آپ تحریر فرماتے ہیں: یہاں آتے ہی دل کو اطمینان ہو گیا۔ہول دل وغیرہ جاتا رہا‘۔( ڈائری) البدر اور الحکم میں مرقوم ہے کہ ۲۱ / جون ۱۹۰۴ء کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا: اگر یہ لوگ منہاج نبوت کو معیار ٹھہر اویں تو آج فیصلہ ہوتا ہے۔اس مقام پر نواب محمد علی خاں صاحب نے عرض کی کہ ایک شخص نے مجھ سے حضور کے بارے میں بحث کرنی چاہی۔میں نے اسے کہا کہ اول تم سب کتابیں حضرت مرزا صاحب کی مطالعہ کرو۔اگر اس میں سمجھ نہ آئے تو ایک ماہ قادیان چل کر رہو اور وہاں مرزا صاحب