اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 648 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 648

648 خواب دیکھا تھا کہ حضور تشریف لائے اور ایک کاغذ حضور کے ہاتھ میں ہے اور وہ حضور نے آپ کے سامنے رکھ دیا اور فرمایا کہ یہ ان لوگوں کے نام ہیں جو میرے بعد شہید ہوں گے۔ناموں کا ایک صفحہ لکھا ہوا ہے لیکن ان میں سے صرف اپنا اور حضرت صاحبزادہ میاں محمود احمد صاحب کا نام یا در ہا۔باقی ذہن سے اتر گئے“۔سیدہ موصوفہ کی اپنی ایک خواب بھی اس کے ہم مفہوم ہے۔آپ فرماتی ہیں : ایک دفعہ دیکھا کہ نواب صاحب آ رہے ہیں۔اس وقت مجھے خواب میں احساس ہے کہ یہ اب فوت ہو چکے ہیں۔بڑے اضطراب کے ساتھ میں نے کہا کہ یا اللہ ! اب آپ فوت نہ ہوں تو آپ نے نہایت ہی وقار کے ساتھ کہا کہ ہم زندہ ہیں اور ہم لوگوں کو مردہ نہیں کہتے۔ہم مرا نہیں کرتے۔صرف نظروں سے اوجھل ہو جاتے ہیں۔ٹھیک یہی الفاظ سنجیدگی سے ٹھہر ٹھہر کر ادا کیئے۔میرے نزدیک ہر دور کیا میں آپ کے اعلیٰ مقام کی خبر دی گئی ہے۔شہادت سے مراد ظاہری شہادت نہیں جو بالعموم عوام کے لئے متباور الی الذہن ہوتی ہے بلکہ وہ مقام شہادت ہے جوصرف اعلیٰ مومنوں کو حاصل ہوتا ہے۔اور جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے وَ كَذلِكَ جَعَلْنَكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا اور شَهِدَ اللهُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَّئِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ میں فرمایا ہے۔حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ ( اللہ تعالیٰ انہیں ہر شر سے محفوظ رکھے اور دیر تک بہ حفاظت ہمارے سروں پر سلامت رکھے۔آمین ) اپنے مقام خلافت نیز بوجہ مصلح موعود اور مثل مسیح موعود ہونے کے اس آیت کے اعلیٰ درجہ کے مصداق ہیں۔اور حضرت نواب صاحب کے متعلق عرصہ دراز یعنی بیالیس سال قبل الہی الہام نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر یہ انکشاف کر دیا تھا کہ نواب صاحب حمتہ اللہ ہیں اور حضور نے اسکی جو تشریح فرمائی تھی اس کا ذکر پہلے گذر چکا ہے۔وہ اسی مفہوم کی حامل ہے۔دین سے محبت اور دعاؤں میں شغف ہم گزشتہ اوراق میں دیکھ چکے ہیں کہ کس کس رنگ میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نواب صاحب کو نوازا او ان کو با اقبال بنایا اور عجیب قابل رشک اخلاص عطا کیا۔یہ مقام تقویٰ آپ کو کیونکر حاصل ہوا اس لئے کہ آپ طبقہ امراء میں سے ہوتے ہوئے دنیا اور اس کی لذات سے روگردانی کر چکے تھے هاذم لـلـذات موت کو نہ بھولتے ہوئے آپ موتوا قبل ان تموتوا کو دائماً اپنا لائحہ عمل قرار دے چکے تھے اور ہمیشہ ہی اقامۃ الصلوۃ