اصحاب احمد (جلد 2) — Page 643
643 نبھانے کا حق ہے۔عمر بھر میں نے انکی جانب سے محبت ہی محبت۔مہربانی ہی مہربانی دیکھی۔میری ہر کمزوری اور کوتا ہی سے اس صورت سے چشم پوشی کی کہ مجھے نادم تک نہ ہونے دیا مجھ پر احسان ہی احسان کئے اور جب میری خدمت کا وقت آیا تو افسوس وہ وقت اتنی جلدی ختم ہو گیا کہ میں ہاتھ ملتی رہ گئی۔وہ مجھ سے پہلے اپنے مولا سے جاملے اور وہ دن آگیا جس کے نہ آنے کی میں نے ۳۵ سال دُعائیں کی تھیں مگر یقینا یہی بہتر ہوگا اور بعض پہلو سوچ کر میں خود بھی محسوس کرتی ہوں کہ خدا کی یہ مصلحت ظاہر بھی کئی طرح سے اپنے اندر بہتری رکھتی تھی۔جان قربان کر دینے کی نسبت بعض صورتوں میں انسان کا زندہ رہ کر دل و جان کی قربانی دینا زیادہ مفید ہوتا ہے خدا ہمیں اپنے حضور میں ملائے جس ملاقات کے بعد پھر جدائی نہ ہوگی۔وہ انشاءاللہ ہوگی۔مگر یہ دن گزار نے بھی آسان نہیں ہیں۔چند ہی دن کی جدائی ہے یہ مانا لیکن بے مزہ ہو گئے دن بخدا تیرے بعد (مبارکه) فتنہ مصری کے تعلق میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ نے 9 جولائی ۱۹۳۷ء کے خطبہ میں مکرم ملک غلام فرید صاحب ایم۔اے ( سابق مبلغ جرمنی و انگلستان و مدیر ریویو آف ریلیجنز اردو و انگریزی اور سن رائز حال مقیم ربوہ ) کا ایک خواب بیان فرمایا۔یہاں اس تعلق میں درج کیا جاتا ہے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کے حضور حضرت نواب صاحب کے بلند و بالا اور ارفع و اعلیٰ مقام کا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی معنیت کا علم ہوتا ہے: سیدی حضرت امیر المؤمنین اید کم اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔پچھلے دنوں میں نے ایک عجیب خواب دیکھا جو حضور کی خدمت میں عرض ہے۔میں نے دیکھا کہ حضرت ام المومنین کے اس کمرہ میں جس میں بیت الدعا واقع ہے پانچ کرسیوں پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ سلم۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔حضرت نواب صاحب۔حضرت میر محمد اسمعیل صاحب اور حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بیٹھے ہیں۔مجھے اب ان کرسیوں کی ترتیب یاد نہیں رہی۔صرف اتنا یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھے ہیں اس طرح پر کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا منہ بالکل قبلہ کی طرف۔باہر صحن میں بہت سے لوگ جمع ہیں۔میں اپنے متعلق کہہ نہیں سکتا کہ میں اس کمرہ سے باہر ہوں یا اندر