اصحاب احمد (جلد 2) — Page 642
642 ایسی محبت رکھتا ہوں جیسا کہ اپنے فرزند عزیز سے محبت ہوتی ہے اور دُعا کرتا ہوں کہ اس جہان کے بعد بھی خدا تعالیٰ ہمیں دار السلام میں آپ کی ملاقات کی خوشی دکھائے !“۔حسن خاتمہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس طرح حضرت نواب صاحب کی تربیت کی اور جس طرح کا اعلیٰ سلوک حضور اور حضرت ام المومنین نوراللہ مرقدھا کا آپ سے اور آپ کی اولاد سے تھا اور کس کس رنگ میں حضور نے آپ کے لئے دعائیں کیں اور نواب صاحب کا اخلاص حضرت اقدس کی نظر میں کس عالی مرتبت کا تھا اس کا ذکر آگے الگ آتا ہے۔میں اس مقام پر آپ کے حسن خاتمہ کا ذکر کرتا ہوں۔بیوی اور میاں کا ایسا تعلق ہے کہ ایک دوسرے سے اپنے اپنے نقائص چھپا نہیں سکتے۔بیوی کی شہادت کے آئینہ میں ہم میاں کے اخلاص و شمائل اور عادات و خصائل تمام کا نقشہ دیکھ سکتے ہیں۔جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پہلی بارنزول وحی سے گھبرا کر گھر آئے تو آپ کی زوجہ مطہرہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیا ہی پاک الفاظ میں حضور کے جملہ خصائل و شمائل کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیا اور کس وثوق سے اس یقین کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ حضور کو ہرگز رسوا نہ کرے گا۔ہم ذیل میں حضرت نواب صاحب کے اپنے اہلبیت سے مروت اور پاک اور غایت درجہ کے اعلیٰ سلوک کی شہادت آپ کے اہلبیت حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کی زبانی بیان کرتے ہیں۔آپ تحریر فرماتی ہیں : انتہا کے سیر چشم وسیع اخلاق کے کسی کی بُرائی نہ کرنے والے نہ سننے والے۔ہر ایک کی خوشی میں دل سے خوش ہونے والے بیحد دل کے غنی۔صدق و غناء سیر چشمی عالی حوصلگی اور رفعت و وسعت اخلاق خصوصیتیں تھیں ان کی سیرت کی اور یہ صفات ان میں پورے طور پر جلوہ گر تھیں مجھے اپنی ساری زندگی میں جو ان کے ساتھ گذری کبھی ان میں سقم ذرا بھی نظر نہیں آیا بلکہ زیادہ ہی زیادہ یہ خوبیاں چمکتی نظر آتی رہی ہیں مگر ان کی بڑی خوبی ان کا ایمان تھا جس کے ظہور کو میں ہرامر میں دیکھتی رہی ہوں جہاں تک خدا نے مجھے دکھایا میں خدا کو شاہد کر کے کہ سکتی ہوں کہ وہ شخص ایک اعلیٰ درجہ کے ایمان کا مالک تھا۔یہ بھی خدا تعالے کا ان پر ایک خاص احسان تھا ورنہ آدمی خود تو یہ بات پیدا نہیں کر سکتا۔مجھے خود حضرت والدہ صاحبہ ساتھ لے جا کر نواب صاحب کے گھر چھوڑ آئی تھیں اور اُن کے سپرد کیا تھا اور خدا کی ہزار ہا رحمتیں روز بروز لمحہ بہ لحہ بڑھتی ہوئی ان کی روح پر نازل ہوں اس ہاتھ پکڑنے کی لاج جب تک میرا ہاتھ خدا کے ہاتھ میں دیکر رخصت نہیں ہو گئے ایسی رکھی کہ مجھے تو کہیں نظیر نہیں ملتی ایسا نبھایا جو