اصحاب احمد (جلد 2) — Page 641
641 ۷- برج ۸- متوئی ، ۹- سکھر خوار ۱۰- بھوون ،۱۱ - سلطان پورا ۱۲- چوہانہ خورد ۱۳۔کشن گڑھ جنوبی۔۱۹۱۷ء کی ایک تحریر سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی اس وقت مالی حالت یہ تھی کہ آپ چالیس / ۴۰ ہزار روپیہ کی اراضی فروخت کر چکے تھے۔اور جائیدا د واقعہ مالیر کوٹلہ کی قیمت پندرہ لاکھ اور جائیداد واقعہ قادیان کم از کم بنتیس ہزار روپیہ کی تھی۔اور اس وقت آمد تخمینا چھتیں ہزار روپیہ سالانہ تھی۔کتبہ کی عبارت نواب صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قرب میں چاردیواری کے اندر دفن کئے گئے۔سیده نواب بیگم مبارکه صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ کتبہ کی عبارت حضرت ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ تعالی عنہ نے تجویز فرمائی تھی۔اسے ذیل میں کتبہ سے نقل کیا جاتا ہے: مزار حضرت نواب محمد علی خان صاحب آف مالیرکوٹلہ جو یکم جنوری ۱۸۷۰ء کو پیدا ہوئے۔۱۸۹۰ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت سے مشرف ہوئے اور ۱۰ / فروری ۱۹۴۵ء کو قادیان میں وفات پا کر اپنے مولا کے حضور پہنچ گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاص صحابہ میں سے تھے جنہیں خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک الہام میں حجة اللہ کے نام سے یاد فر مایا اور حضور نے اپنی صاحبزادی نواب مبارکہ بیگم صاحب کے ذریعے انہیں اپنی دامادی سے مشرف کیا اور ان کے متعلق ازالہ وہام میں لکھا: جوان۔صالح۔ان کی خدا دا د فطرت بہت سیلیم اور معتدل ہے۔التزام نماز میں اہتمام ہے۔منکرات و مکروہات سے بکلی مجتنب ہیں مجھے ایسے شخص کی خوش قسمتی پر رشک ہے جس کا ایسا صالح بیٹا ہو۔اور اپنے ایک خط میں نواب صاحب مرحوم کو مخاطب کر کے فرمایا۔” میں آپ سے