اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 623 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 623

623 حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ مکرم نواب زادہ محمد عبد اللہ خان صاحب اور مکرم نواب زادہ محمد احمد خاں صاحب اُترے اور چار پائی پر سے میت کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے صاحبزادگان نے اُٹھایا میت کو لحد میں رکھنے کے بعد حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ اور دوسرے احباب با ہر نکل آئے لحد پر کچی اینٹیں چینی گئیں۔اس کے بعد حضور نے دونوں ہاتھوں سے تین دفعہ مٹی اٹھا کر قبر میں ڈالی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر دُعا کے لئے تشریف لے گئے۔پھر سیدہ امتداحی صاحبہ سیده ساره بیگم صاحبہ اور سیدہ ام طاہر صاحبہ کی قبروں کے پاس تشریف لے گئے اور دُعا فرمائی۔اس دوران میں دوسرے دوست حضرت نواب صاحب کی قبر پر مٹی ڈالتے رہے۔قبر مکمل ہونے پر حضور تشریف لائے اور تمام مجمع سمیت دُعا فرمائی۔چونکہ عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا اس لئے حضور نے اسی جگہ نماز پڑھائی جہاں جنازہ پڑھا گیا تھا۔چونکہ جنازہ پڑھانے سے قبل اعلان کر دیا گیا تھا کہ حضور عصر کی نماز اسی جگہ پڑھائیں گے اس لئے خادم مسجد جائے نماز لے آئے اور حضور کے لئے صفوں کے آگے بچھا دیا چونکہ سارے مجمع کے لئے فرش نہ تھا اور سب اصحاب سفید زمین پر کھڑے تھے حضور نے بھی اپنے آگے سے جانماز اُٹھوادیا اور خالی زمین پر نماز پڑھائی“۔۴۳۳ آپ کی ایک نیکی اور اللہ تعالیٰ کا فضل حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے ذیل کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے کس طرح حضرت نواب صاحب کی ایک نیکی کو نوازا اور آپ کی اس خواہش کو پورا کرنے کا سامان کر دیا کہ آپ کی وفات قادیان کی مقدس سرزمین میں ہو۔آپ فرماتی ہیں: ہر انسان کے نیک افعال میں سے اکثر ایسے ہوتے ہیں کہ سننے والا خیال کرتا ہے یا کہہ سکتا ہے کہ یہ کوئی ایسی بات نہیں اس جگہ ہر شریف آدمی ایسا ہی کرتا یا ہم بھی ہوتے تو یونہی کرتے مگر بظاہر معمولی سی نیکی بھی اپنی جگہ اور اس وقت پر جب وہ سرزد ہوئی دیکھنے والوں کے لئے کسی کی نیک نیت کے اثر سے اور وقتی حالات پر غور کرنے کی وجہ سے بہت گہرا اثر چھوڑ جاتی ہے۔میاں مرحوم کا آج نہیں ان کی حیات میں اور ابتدا سے ہی میں نے شوہر جان کر نہیں ایک احمدی اور صحابی سمجھ کر اکثر نظر غور سے مطالعہ کیا اور میرے دل میں ان کے نور ایمان کو اور ان کی سعید فطرت کو دیکھتے ہوئے ان کی قدر روز بروز بڑھتی ہی چلی گئی۔ایک واقعہ ان کی زندگی کا جس نے مجھ پر بہت گہرا اثر ڈالا وہ ان کی ایک نیکی تھی جو بظاہر معمولی تھی اور جو بھی ان کی جگہ ہوتا یہی کرتا جو انہوں نے کیا مگر جس تڑپ اور اخلاص سے کیا وہ حالت تھی جو اس اثر کو آج