اصحاب احمد (جلد 2) — Page 18
18 کانفرنس بابت سال سوم کے اجلاس منعقدہ ۲۷ تا ۳۰ دسمبر ۱۸۸۸ء بمقام لاہور کی روئداد میں دوصد اٹھاون ممبران کے اسماء درج ہیں جن کا ایک سال کا زر چندہ پانچ روپے وصول ہوا۔ان میں حضرت مولوی نور الدین صاحب (خلیفہ امسیح اول) - نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ متعلم چیفس کالج لاہور اور آپ کے بھائی نواب محمد ذوالفقار علی خاں صاحب متعلم چیفس کالج لاہور کے اسماء بھی شامل ہیں۔۳۰ دسمبر ۱۸۸۸ء کو سرسید کی خدمت میں لاہور کے کالجوں کے کل مسلمان طلباء کی طرف سے ایک ایڈریس پیش کیا گیا جس میں سرسید کی مساعی کو سراہا گیا۔اور توقع ظاہر کی گئی کہ ان کی کوشش سے مسلمان قوم ترقی کر سکے گی۔یہ ایڈریس پچپیس افراد کے وفد کے ذریعہ پیش کیا گیا تھا جن میں سب سے پہلا نام حضرت نواب صاحب کا تھا حالانکہ سیکرٹری کوئی اور شخص تھا۔اس دوران میں نواب صاحب کو سرسید کے کام اور تعلیمی نظام سے دلچسپی پیدا ہوگئی اور آپ نے ایک حد تک سرسید کے بعض معتقدات کا شروع شروع میں اثر بھی قبول کیا۔لیکن با ینہمہ سرسید کے مخصوص نیچری اعتقادات کے ساتھ زیادہ لگاؤ اور دلچسپی نہ تھی۔بلکہ ان دنوں دوسرے فرقہ ہائے اسلام کے معتقدات کے حسن و فتح کی جانچ پڑتال کا بھی آپ کو زیادہ خیال نہ تھا۔اور بیعت کے وقت آپ کی لوح قلب تقریباً صاف تھی جس پر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پر معارف تعلیم آسانی سے مرتسم ہوگئی۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اگر چہ سرسید کے بعض مذہبی خیالات سے اختلاف تھا مگر آپ سرسید کی قومی ہمدردی اور مسلمانوں کی مخلصانہ خدمت کے مداح تھے۔اور اس لحاظ سے انہیں قابل عزت اور لائق مدح وستائش خیال فرماتے تھے۔یہی نقطہ نظر بیعت راشدہ کے بعد حضرت نواب صاحب کا تھا۔چنانچہ اس امر کی تائید آپ کی رفیقہ حیات حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے اس بیان سے ہوتی ہے کہ آپ کا سرسید احمد پر اعتقاد مذہبی نہیں بلکہ اور قسم کا تھا۔آپ ان کو مسلمانوں کی دنیوی اور تعلیمی ترقی کا بانی اور قوم کا مخلص کارکن جانتے تھے۔اس سے زیادہ کچھ نہیں۔مذہب اور روحانیت کا سلسلہ اس سے الگ تھا۔ان کے جملہ اعتقادات کے آپ بھی قائل نہ ہوئے تھے۔طبیعت میں یہ مادہ تھا کہ قابل جو ہر اور قربانی کرنے والے آدمی کے خواہ کسی مذہب وملت سے تعلق رکھتا ہو قدردان ہوتے تھے۔بلکہ اس کے غائبانہ محبت۔اور یہی وجہ آپ کے سرسید کے ساتھ قریبی مراسم کے بڑھنے کی تھی۔اسی اسلامی ہمدردی کے جوش میں نوجوانی کے عالم میں ایک بار علیگڑھ کے جلسہ میں نواب صاحب نے شہنشاہ اور نگ زیب کے سوانح پر تقریر کی اور جو الزامات مخالفین ان پر لگاتے ہیں ان کا رڈ کیا۔یہ تقریرہ بہت پسند کی