اصحاب احمد (جلد 2) — Page 596
596 آج حضور علیہ السلام نے ایک رؤیا دیکھا فرمایا کہ: ☆ دو تین بھینسے ہیں ان میں سے ایک کو میں نے مارا پھر دوسرا آیا اس کو بھی مارا۔یہ نظارہ کو چہ کا ہے (جو چھوٹی مسجد سے بڑی مسجد کو جاتا ہے ) پھر تیسرا آیا جو زیادہ خوفناک ( اور ) ان میں بہت جسیم اور بڑا تھا۔اس نے تمام گلی روک رکھی ہے مجھ کو اس ( سے ) بہت خوف معلوم ہوا مگر اس نے سر ہلایا تو میں اس کے برابر پھس پھسا کر نکل گیا گو میں نے پھر اس کو دیکھا نہیں مگر مجھ کو معلوم ہوتا تھا کہ وہ میرے پیچھے ہے اور مسجد کلاں میں گیا بڑا انبوہ پایا اور وہاں ایک جنازہ دیکھا اس وقت میری زبان ( پر ) یہ جاری ہوا رب كل شئی خادمک رب فاحفظنی وانصرنی وارحمنی خواب بروایت فضل الدین چپڑاسی او ردُعا بروایت چپڑاسی مذکورہ خانصاحب نواب خاں لکھی گئی ہو ۸/دسمبر ۱۹۰۲ء (سحری کھائی ) بعد نماز قرآن شریف پڑھا پھر زنیب ( اپنی بیٹی ) اور غوثاں (خادمہ) کو ۱۲ بجے تک پڑھایا۔( بعد نماز ظہر ) مدرسہ کے کاغذات وغیرہ منظور کئے۔( بعد عصر ) پھر قدرے نیچے ظہر کر مدرسہ کے کچھ کا غذات دیکھ کر اوپر آیا عشاء کی ) اذان ہونے پر مسجد میں گیا۔وہاں اس وقت حضرت اقدس موجود ( تھے ) حضور علیہ السلام کے تشریف لانے کے بعد کچھ عرصہ دربار رہا پھر عشاء کی جماعت ہوئی اور میں آٹھ بجے گھر آیا آج ایک رؤیا حضور علیہ السلام نے عصر کے وقت سُنایا اور وہ یہ تھا: میں وضو کر نے لگا کہ میں گرا۔۔۔اور میں ہوا میں تیر نے لگا اس وقت میں نے کہا کہ مجھ کو یہ فین آتا ہے اور میں نے مولوی محمد حسن کو کہا کہ مسیح تو پانی پر چلتا تھا اور میں ہوا پر تیرتا ہوں“۔* نماز تہجد قرآن شریف و غیره ۵:۱۵ ۴:۴۵ // * عبارت خطوط وحدانی ڈائری کا حصہ ہے اس خواب کا ذکر البدر جلد نمبر۷ صفحه ۵۴ والحکم بابت ۰۲-۱۳- ۱۰ صفحہ، اپر مختلف الفاظ میں موجود ہے۔یه خواب البدر بابت ۰۲-۱۲-۱۲ ( صفحہ ۵۵) پر مرقوم ہے۔صرف اس ڈائری سے معلوم ہوا کہ حضور نے یہ خواب کس وقت سُنا یا تھا۔