اصحاب احمد (جلد 2) — Page 570
570 میں انسان ہمیشہ رہے گا مگر وہ جس کو اللہ چاہے یعنی جس کو اللہ تعالیٰ چاہے اس کو نکال لے گا۔پس اس سے صاف ظاہر ہے (کہ) دوزخ میں خلود دانگی نہیں اور حدیث میں آتا ہے کہ ایک وقت دوزخ پر ایسا آئے گا کہ نسیم صبا اس کے دروازے ہلائے گی یعنی دوزخ میں کوئی نہ ہوگا۔فرمایا عیسائیوں نے اس بات کو نہیں سمجھا یہ اسلام ہی میں خوبی ہے۔مگر اس سے یہ ثابت نہیں ( کہ ) دوزخی کبھی ان مدارج کو پہنچ جائیں گے جو بہشتیوں کے ہیں۔ہاں یہ ہے کہ ان کو وہ تکلیف نہ رہے گی۔۱۳ / فروری ۱۹۰۲ء آج صبح پانچ بجے آنکھ کھلی۔کسل نے اٹھنے نہ دیا۔آخر چھ بجے آنکھ کھلی۔افسوس دار الامان میں بھی کہ کے ہاتھوں یہ حالت ہے۔خدا اپنے فضل و کرم سے مجھ میں چستی پیدا کرے۔سیر وغیر ہ معمولی امور۔نماز مغرب ( کے وقت ) ایک بد قسمت آ گیا۔تصاویر اور حرمت مسجد پر بحث کرنے لگا۔اس سے حضرت اقدس نے فرمایا کہ تصویر ایک محض لغو طور سے رکھی ہے تو حرام ہے کیونکہ خدا وند تعالیٰ فرماتا ہے هُمْ عَنِ اللَّـعُـو مُعْرِضُونَ اور اگر کسی شرعی اور علمی غرض سے بنوائی یا رکھی گئی ہے تو حرام نہیں۔اور مسجد کی جو حرمت حضرت رسول کریم کے زمانہ میں تھی اس سے اس وقت زیادہ تکلف موجود ہے۔بقیہ حاشیہ : - ہونے کا ذکر ہے نہ کہ جو حضور نے تحریر فرمایا کہ ”ہماری جماعت کے لئے ایک خاص رعایت ہوئی مگر معلوم رہے کہ کسی حد تک بعض کا بطور شہادت فوت ہونا ممکن۔مگر تشویش کامل۔تباہی خانگی سے محفوظ رہے گی کم ابتلاء ہو گا۔یہ مفہوم صرف لا أبقى لك فى المخزيات ذكرًا سے نکلتا ہے یعنی بعض احمدی طاعون سے بطور شہادت فوت ہوں اور مخالف ایسی وفاتوں کو مخزیات کے رنگ میں بیان کریں لیکن اللہ تعالیٰ نے ان مخزیات کا نام ونشان باقی نہ رکھے۔نیز احمدیوں کی طاعون سے وفات تشویش کامل اور خانگی تباہی کے رنگ میں نہ ہو۔خلاصہ کلام یہ کہ شواہد کی رو سے لا ابقى لك في المخزيات ذكرًا کا الہام تصنیف کشتی نوح (۱۰ ستمبر ۱۹۰۲ء) سے قبل ہوا تھا اور اس کی تاریخ نزول ۱۰ / دسمبر ۱۹۰۱ ء اور ۳۰ را پریل ۱۹۰۲ء کے درمیانی عرصہ میں قرار پاتی ہے جس سے نواب صاحب کی ڈائری میں مندرجہ تاریخ ۸ فروری ۱۹۰۲ء کی تصدیق ہوتی ہے۔اور اس الہام کی تاریخ نزول کی تعیین صرف اور صرف اس ڈائری سے ہوتی ہے۔(کم ابتلاء ہوگا“ کے الفاظ مکتوبات حضرت مسیح موعود بنام مولوی عبداللہ صاحب سنوری ، مطبوعہ ۲۰ دسمبر ۱۹۲۱ء میں موجود نہیں۔مؤلف )