اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 547 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 547

547 گیا۔بیوی صاحبہ نے کھانے کے ( متعلق ) پوچھا تو حضرت نے فرمایا کہ وہ مرے ہوئے ( ہیں ) کھائیں گے کچھ نہیں صرف وہ دیکھنے آئے ہیں۔پھر اس کے بعد پیر سراج الحق صاحب نے اپنا رو یا بیان کیا جو اسی قسم کا تھا اور پھر شیخ رحمت اللہ بڑے ساز و سامان کے ساتھ گویا آئے ہیں۔حضرت اقدس تشریف لے گئے۔اس کے بعد مدرسہ کے متعلق چند فقرات مدرسہ کے سلسلہ میں درج کئے جاچکے ہیں۔(مؤلف) میں ( نے ) تمام مدرسہ کا معائنہ کیا کہ ڈسپلن اور طریق تعلیم کے محتاج استادوں کو پایا ویسے سٹاف عمدہ ہے۔شام کو مولوی محمد علی صاحب اور نواب خاں صاحب تشریف لائے اور مدرسہ کے قواعد کے متعلق گفتگو ہوتی رہی۔ڈاکٹر رشید الدین رخصت ہونے آئے۔وہ گھر تشریف لے گئے۔جہاں حافظ محمد حسین صاحب تشریف لائے۔مع یعقوب علی ایڈیٹر الحکم کی بین المغرب والعشاء عسل مصفی ، مولوی عبد الکریم صاحب نے اپنا رویا بیان کیا کہ میں نے دعا کی تھی کہ نبی بخش نے جو میرے ناقص الخلقت ہونے پر لکھا اس کی بابت میں تین دن دعا کرتا رہا کہ اے اللہ ! کیا تیرے نزدیک بھی میں ایسا ہی ہوں۔تو مجھ کو رات رؤیا ہوا کہ چارسوال حضرت اقدس نے دیئے ہیں اور جم غفیر ہے۔حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ جو شخص ان سوالات کو حل کرے گا وہ قابل امامت ہے۔تو بہت لوگ ان سوالات کو لینے لپکے ہیں۔مگر حضرت نے مجھ کو یہ سوالات دیئے ہیں اور میں نے حل کئے ہیں۔اور مولوی نورالدین صاحب دوڑ کر آئے ہیں کہ انہوں نے مجھ کو بغلگیر ہو کر مبارک باد دی ہے کہ تم کامیاب ہو گئے۔یہ خواب قبل نما ز سنایا تھا۔۲۰ نومبر ۱۹۰۱ء بروز بدھ آج صبح ( کے ) بعد ( حسب) معمول سیر کو گئے۔سیر میں مختلف گفتگو میں ہوتی رہیں۔آج بھی مخاطب مولوی محمد احسن صاحب امروہی رہے ایک لطیف تفسیر حضرت نے بیان فرمائی کہ حضرت مسیح کے مصلوب ہونے (کے ) وقت بھی قرآن ( میں ) مَكَرُوا وَمَكَرَ اللهُ - وَاللهُ خَيْرُ المَاكِرينَ آب معائینہ کا ذکر الحکم جلد ۵ نمبر ۴۳ صفحه ۱۵ کالم ۳ بابت ۰۱-۱۱-۲۴ میں درج ہے۔مکرم عرفانی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ حافظ محمد حسین صاحب ڈنگہ (ضلع گجرات) کے رہنے والے بڑے مخلص تھے۔ان کا سارا خاندان احمدی تھا اور وہ حضرت اکمل کے عزیزوں کا خاندان ہے۔“ * یعنی مغرب و عشاء کے درمیان حضرت اقدس نے عسل مصفی کتاب سنی۔