اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 542 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 542

542 ☆ بابت گفتگو کی۔پھر حسب معمول نماز مغرب و عشاء اور عسل مصفی کے سننے کے بعد دیر میں آکر سوئے ہو اس روز کے دربار شام کے کوائف میں مرقوم ہے۔پھر مختلف باتوں کے تذکرہ میں فرمایا۔جو قومی خدا نے انسان کو دیئے ہیں ان سب سے بجز سچے موحد کے کوئی دوسرا کام نہیں لے سکتا۔شیعہ ترقی نہیں کر سکتے کیونکہ وہ تو اپنی ساری کوششوں کا منتہا ء امام حسین کو سمجھ بیٹھے۔ان کو رولینا اور ماتم کر لینا کافی قرار دے لیا۔ہمارے استاد ایک شیعہ تھے گل علی شاہ ان کا نام تھا کبھی نماز نہیں پڑھا کرتے تھے۔منہ تک نہ دھوتے تھے۔اس پر نواب صاحب نے آپ کی تائید میں بیان کیا کہ وہ میرے والد صاحب کے بھی استاد تھے اور وہاں جایا کرتے تھے اور یہ واقعی سچ ہے کہ ان کی مسجدیں غیر آباد ہوتی ہیں۔ہماری مسجد کا ایسا ہی حال تھا اور اب خدا کے فضل سے وہ آباد ہو گئی ہے لوگ نماز پڑھنے لگے ہیں۔اس پر حضرت اقدس نے نواب صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا وہ کبھی کبھی آپ کے والد صاحب کا ذکر کیا کرتے تھے اور یہاں سے تین تین مہینہ کی رخصت لے کر مالیر کوٹلہ جایا کرتے تھے۔میں نے غائبانہ بھی کئی مرتبہ ذکر کیا ہے اور میری فراست بھی یہی بتاتی ہے ( یہ نواب صاحب کی مسجد کے آباد ہونے اور نمازیوں کے آنے کے ذکر پر فرمایا ) کہ راستی قبول کرنا اور پھر خدا تعالیٰ کی عظمت اور جلال سے ڈر جانا اور اس کی طرف رجوع کرنا آپ کے اور آپ کی اولاد کے اقبال کی نشانی ہے۔بجز اس کے کہ انسان سچائی سے خدا کی طرف آئے خدا کسی کی پروا نہیں کرتا خواہ کوئی ہو۔مبارک دن ہمیشہ نیک بخت کو ملتے ہیں۔یہ آثار صلاحیت ، تقویٰ اور خدا ترسی کے جو آپ میں پیدا ہو گئے ہیں آپ کے لئے اور آپ کی اولاد کے لئے بہت ہی مفید ہیں۔اس سے اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ جو میں ابتدائے کتاب میں بیان کر چکا ہوں کہ حضرت اقدس“ اور والد ماجد حضرت نواب صاحب دونوں کے استاد گل علی شاہ صاحب تھے۔بقیہ حاشیہ: چونکہ خط بہت لمبا اور طویل تھا اور درمیان میں حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام بعض مقامات پر اس کی اصلاح یا لبعض امور تشریح مزید کی غرض سے بیان فرماتے تھے اس لئے واپس مکان تک پہنچنے پر بھی وہ ختم نہ ہوا۔چنانچہ حضرت اقدس نے مناسب سمجھا کہ اسے بیٹھ کر تمام سن لیں۔حضرت حضرت مولوی نورالدین صاحب کے مطب میں بیٹھے ہوئے اسے سنتے رہے۔