اصحاب احمد (جلد 2) — Page 540
540 نے الہام سنایا وہ یہ ہے۔مَحْمُومٌ نَظَرْتُ إِلَى الْمَحْمُوم - اس کے بعد بکرے کی ران کا ٹکڑا لٹکتا ہوا دیکھا فرمایا کہ منذ رخواب ہے۔۷ار نومبر ۱۹۰۱ء تہجد پڑھی۔حسب معمول نماز صبح کے بعد ڈیرے آئے۔مولوی محمد علی صاحب سے تخلیہ میں مدرسہ کے متعلق گفتگو ہوئی انہوں نے اس جھگڑے کے مٹانے کے لئے اپنی علیحدگی کی پسندیدگی ظاہر کی۔جس سے حمدیہ الہام ور ویا الحکم بابت ۷ ارنومبر ۱۹۰۱ء صفحہہ میں مرقوم ہیں۔بقیہ حاشیہ :- نہیں کی۔میر اعلم یہ ہے وہ نو مسلم تھے حضرت حکیم الامتہ ان کی مدد کرتے تھے۔اس دفعہ (یعنی جلسہ سالانه ۹۲ ء پر مؤلف ) جو آئے تھے تو حضرت حکیم الامۃ نے کامیابی کی خوشی میں ایک اشرفی ان کو دی تھی۔شیخ صاحب علی گڑھ میں زندہ ہیں وہ بھی تصدیق کرتے ہیں کہ انہوں نے بیعت نہیں کی تھی۔ڈائری میں جو کچھ شیخ عبد اللہ صاحب کے متعلق مذکور ہے اس کا ذکر پر چہ مذکور میں موجود ہے۔وہاں مرقوم ہے۔۱۶ نومبر بعد نماز مغرب۔۔۔۔۔مولوی عبد الکریم صاحب نے شیخ عبداللہ بی۔اے پلیڈر علی گڑھ کا ایک خط سنایا جو اس نے حضرت مولانا نور الدین صاحب کے نام لکھا تھا اس میں ایک رجبی کے جلسہ کا تذکرہ لکھا تھا اور آخر میں معجزات پر ہنسی کی ہوئی تھی۔طرز بیان اور ادائے مطلب کا طریق مضحکہ خیز اور استہزاء کا تھا اور معجزات اور مکالمات الہیہ کو اور پیشگوئیوں کو اسلام کے لئے داغ قرار دیا گیا تھا اس کو سن کر حضرت اقدس نے فرمایا۔افسوس ہے ان لوگوں نے اسلام کو بدنام کیا ہے جس بات کو سمجھتے نہیں اس میں یورپ کے فلاسفروں کی چند بے معنی کتابیں پڑھ کر دخل دیتے ہیں۔معجزات اور مکالمات الہیہ ہی ایسی چیزیں ہیں جن کا مردہ ملتوں میں نام ونشان نہیں ہے اور معجزہ تو اسلام کی پہلی اینٹ ہے اور غیب پر ایمان لانا سب سے اول ضروری ہے اصل بات یہ ہے کہ اس قسم کے خیالات دہریت کا نتیجہ ہیں جو خطرناک طور پر پھیلتی جاتی ہے۔سید احمد نے وحی کی حقیقت خود بھی نہیں سمجھی۔دل سے پھوٹنے والی وحی شاعروں کی مضمون آفرینی سے بڑھ کر کچھ وقعت نہیں رکھتی۔افسوس ہے کہ مولوی صاحب نے روپیہ صرف کیا اور کوشش کی مگر نتیجہ یہ نکلا مولوی صاحب اس کو ضرور خط لکھ دیں اور اسے بتائیں کہ معجزات اور مکالمات اور پیشگوئیاں ہی ہیں جنہوں نے اسلام کو زندہ مذہب قرار دیا ہے۔‘ (صفحہ ۴،۳)