اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 493 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 493

493 تھے۔میز کرسی کے استعمال کی انہیں عادت نہ تھی۔تمام دن فرش پر بیٹھ کر ہی سب کام 66 کرتے تھے۔آپ ایک صالح ، بہت نیک، پابند شریعت، زاہد عابد انسان تھے۔“ مکرم چوہدری نور احمد خاں صاحب سکنہ سڑوعہ پنشنر کا رکن حال مہاجر ضلع ملتان ذکر کرتے ہیں کہ ابتدائے خلافت ثانیہ میں مجھے دو سال تک حضرت نواب صاحب کے ماتحت بطور کلرک کام کرنے کا موقعہ ملا۔آپ اس وقت صدرانجمن احمدیہ کے جنرل سیکرٹری تھے۔آپ اس امر کو نا پسند فرماتے تھے کہ کلرک کھڑا رہے اور پھر کاغذات پیش کرے۔اس لئے ہمیشہ بیٹھنے کا ارشاد فرماتے۔اور کھڑے رہ کر دستخط کرانے سے منع فرماتے۔دوسرے کاغذات پر دستخط فرمانے کے بعد ان کی تمام تر ذمہ داری اپنے اوپر سمجھتے۔اور کبھی یہ عذر کرنے کو تیار نہ ہوتے کہ فلاں معاملہ کے کاغذات چونکہ کسی کلرک نے تیار کئے ہیں اس لئے اس سے غلطی سرزد ہوئی ہے۔میں نے تو صرف دستخط کئے ہیں۔گویا کہ آپ پورے غور و فکر سے دفتری امور کو سرانجام دیتے تھے۔آپ کا طریق تھا کہ صبح دس بجے گھوڑا گاڑی پر دفتر پہنچتے اور خوب جم کر پورے چھ گھنٹے کام کرتے۔چار بجے گاڑی آجاتی اور آپ ٹھیک چار بجے واپس دار السلام چلے جاتے۔اوقات دفتر میں ادھر ادھر جانے کی عادت کم تھی البتہ کبھی کبھی چند منٹ کے لئے حضرت اماں جان اطال اللہ بقاء ہا کے ہاں چلے جاتے تھے۔بسا اوقات مجھے دفتری کا غذات آپ کی کوٹھی پر لے جانے پڑتے۔آپ کام سے فارغ ہو کر مجھے باغ کی سیر کے لئے لے جاتے۔آپ کی شفقت بھری باتوں سے دل محبت سے بھر جاتا۔چونکہ میں نسلاً راجپوت ہوں اس لئے کبھی آپ اپنے خاندانی حالات کے ضمن میں ذکر فرماتے کہ ہماری دادی صاحبہ ریاست پٹیالہ کے قصبہ چہل کے معزز راجپوت خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔اور ہمارے خاندان میں بہ نظر احترام دیکھی جاتی تھیں۔انہوں نے اپنے ہاتھ سے سوت کات کر ایک سائبان تیار کیا تھا۔جو بطور یادگا ر رکھا ہوا ہے۔موصوفہ بہت سلیقہ شعار خاتون تھیں اور ان کی زندگی میں خاندان میں شادی بیاہ کا انتظام وانصرام انہی کے سپرد ہوتا تھا۔اس وجہ سے مجھے راجپوت قوم سے بہت محبت ہے۔چنانچہ آپ بہت سے احمدی راجپوتوں کے حالات دریافت فرماتے۔الف- قیام صدر انجمن احمدیہ سے قبل ۶ / جنوری سے ۵/ دسمبر ۱۹۰۲ء تک پہلے آپ میگزین (ریویو) کے یہ امران تاریخوں کی ڈائری سے معلوم ہوتا ہے۔۵ دسمبر میں نواب صاحب کی طرف سے اس کام کا چارج مکرم مفتی محمد صادق صاحب کے سپرد کرنے کا ذکر آتا ہے۔چنانچہ مکرم مفتی صاحب کے فنانشل سیکرٹری مقرر کئے جانے کا ذکر الحکم بابت ۰۲-۱۲-۷ اصفحہ ۱۵ کالم ۳ میں آتا ہے۔