اصحاب احمد (جلد 2) — Page 457
457 برداشت کرنے پر نواب صاحب آمادہ تھے اور اس بارہ میں حضور کی خدمت میں تحریر کر چکے تھے۔چنانچہ اس کے مطابق حضور نے ان کے اخراجات ارسال کرنے کے لئے تحریر کیا۔حضور نے مرزا خدا بخش صاحب کے اخراجات تنخواہ اور سفرخرچ برداشت کرنے کی تحریک فرمائی تھی۔سو یہ امر قرین قیاس معلوم نہیں ہوتا کہ اس سفر کے تعلق میں نواب صاحب مرزا صاحب کے دور فقاء کے اخراجات دینے پر تو آمادہ ہو جائیں لیکن مرزا صاحب کے اخراجات نہ برداشت کرنا چاہیں کہ جن کے لئے اولاً حضرت اقدس کی طرف سے تحریک کی گئی تھی۔سوظا ہر ہے کہ تینوں کے اخراجات نواب صاحب ہی برداشت کرنا چاہتے تھے۔- منارۃ ایچ کے لئے چندہ دمشق کے مشرق میں منارہ بیضاء نزول مسیح کی پیشگوئی کا حقیقی مفہوم تو کچھ اور ہے لیکن حضرت اقدس" کا طریق تھا کہ جہاں تک ممکن اور جائز ہوتا ظاہری رنگ میں بھی ہر پیشگوئی کو پورا کرنے کی کوشش فرماتے۔حضرت اقدس ۲۸ رمئی ۱۹۰۰ ء کے اشتہار میں منارہ کی تجویز اور اس کی غرض کا ذکر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں کہ یہ اشتہار مزارہ کے بننے کے لئے لکھا گیا ہے۔مگر یا در ہے کہ مسجد کی بعض جگہ کی عمارات بھی ابھی نادرست ہیں۔اس لئے یہ قرار پایا ہے کہ جو کچھ منارۃ اسیح کے مصارف میں سے بچے گا وہ مسجد کی دوسری عمارت پر لگا دیا جائے گا۔یہ کام بہت جلدی کا ہے۔دلوں کو کھولو اور خدا کو راضی کرو۔یہ روپیہ بہت سی برکتیں ساتھ لے کر پھر آپ لوگوں کی طرف واپس آئے گا۔“ تحریک کرتے ہوئے تحریر فرمایا: ” منارۃ اسیح کے بارہ میں اس سے پہلے ایک اشتہار شائع ہو چکا ہے لیکن جس کمزوری اور کم تو جہی کے ساتھ اس کام کے لئے چندہ وصول ہورہا ہے اس سے ہرگز امید نہیں کہ یہ کام انجام پذیر ہو سکے۔لہذا میں آج خاص طور پر سے اپنے ان مخلصوں کو اس کام کے لئے توجہ دلاتا ہوں جن کی نسبت مجھے یقین ہے کہ اگر وہ سچے دل سے کوشش کریں اور جیسا کہ اپنے نفس کے اغراض کے لئے اور اپنے بیٹوں کی شادیوں کے لئے پورے زور سے انتظام سرمایہ کر لیتے ہیں ایسا ہی انتظام کریں تو ممکن ہے کہ یہ کام ہو جائے اگر انسان کو ایمانی دولت سے حصہ ہو تو گو کیسے ہی مالی مشکلات کے شکنجے