اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 413 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 413

413 کہ نہیں اور دوسرے مولوی محمد حسین بٹالوی مؤلف ) کے اشتہار کا جواب دینا چاہتے کہ نہیں جس میں انہوں نے ہم چار شخصوں کو مخاطب کیا ہے۔“ بقیه حاشیه : ۱۲ / فروری ۱۹۰۲ ء بسم الله الرحمن الرحيم دارالامان قادیان بنام مولوی عبداللہ صاحب فخری مولوی صاحب مکرم مسلمکم اللہ تعالی۔السلام علیکم۔معلوم نہیں آپ کہاں ہیں۔یہ خط کسی امید پر نہیں لکھا جاتا۔بلکہ دلی ہمدردی سے لکھا جاتا ہے۔اب ہمارے تعلقات بالکل منقطع ہیں۔میں نے ان تعلقات کو بہت بنانا چاہا مگر آپ کے تلون نے نبھنے نہ دیا۔اب صرف اس سبب سے کہ آپ میرے استاد ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ آپ اس سعادت سے محروم رہیں جس سے میں فائدہ اٹھا رہا ہوں اور بڑی تپش اور تحریک جو مجھ کو اس خط کے لکھنے پر مجبور کرتی ہے وہ یہ بھی ہے کہ اس سعادت عظمیٰ کے رہنما آپ ہی تھے۔مگر بمصداق آگ لگا جمالو دور کھڑی۔آپ الگ ہوئے نہایت تعجب اور حیرت ہوتی ہے کہ میرے اس طرف آنے کی ابتداء اور آپ کے الگ ہونے کی ابتداء اسی تاریخ سے شروع ہوتی ہے۔مجھ کو نہ امید ہے کہ آپ پر میری یہ تحریر کچھ اثر کرے گی اور نہ کسی سابقہ تعلق کو پیدا کرنے کے لئے یہ تحریک ہے بلکہ قسم ہے اس ذات پاک کی جس نے مجھ کو پیدا کیا میں نے صرف اس لئے آپ کو یہ خط لکھا ہے کہ شاید پھر صراط مستقیم پر آجائیں کیونکہ جب میں آپ کے اس خواب کو غور کرتا ہوں جس میں آپ نے طیور خوش رنگ کا ایک مجمع دیکھا تھا اور اس میں ایک بڑا جانور وجد میں تھا اور کوئی چیز سفید وہ سب کھاتے تھے۔مگر اس خوراک کا ذریعہ نہیں معلوم ہوتا تھا۔میں دیکھ رہا ہوں کہ یہ حالت بعینہ یہاں ہے۔میں جہاں تک غور کرتا ہوں آپ کو امام وقت سے تین چیزوں نے علیحدہ کیا۔(۱) بدظنی (۲) عدم تحقیقات (۳) بے ادبی۔اگر آپ با ادب صادق حق جو کی طرح سے ٹھنڈے دل سے غور اور فکر کرتے تو آپ کو ہر گز ٹھوکر نہ گئی۔باتیں بڑی ہیں غور کر لو آتھم کہاں ہے؟ لیکھر ام کو کیا ہوا ؟ احمد بیگ کس کونے میں ہے؟ محمد حسین کیوں خاموش ہے؟ مکذبین پر کیا گزری؟ اس جماعت اور دوسرے لوگوں میں نسبتاً کیا فرق ہے؟ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ۔جس نے اپنے وقت کے امام کو نہ پہچانا وہ جاہلیت کی موت مرا۔میں اسی لڑکے کی طرح جو آگ میں ڈالا گیا تھا اور اس نے ماں اور قوم کو اس آگ میں بلانے کے لئے فریاد کی تھی۔اس وقت کہ رہا ہوں کہ دیکھو وقت جاتا ہے آنکھیں کھولوموت کا کچھ پتہ نہیں کب آجائے قابل غور یہ امر بھی ہے کہ اس وقت قحط ، و با اور امراض مختلفہ کیا عذاب خدا انہیں اور کیا زمانہ میں