اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 400 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 400

400 نواب صاحب کو نیک اور دیانتدار اور پھر احمدی ملازمین کے متعلق جو لحاظ تھا وہ آپ کے اس عریضہ سے ظاہر ہے جو آپ نے حضرت اقدس کی خدمت میں تحریر کیا۔اس میں لکھتے ہیں۔بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم وعلى عبده المسيح الموعود التجا ہے کہ بعد ملاحظہ کل عریضہ حکم مناسب سے مطلع فرمایا جاوے سیدی و مولائی طبیب روحانی سلمہ تعالی۔السلام علیکم ورحمتہ اللہ و برکات۔مجھ کو جب کسی ملازم کو موقوف کرنا پڑتا ہے تو مجھ کو بڑی شش و پنج ہوتی ہے اور دل بہت کڑھتا ہے۔اس وقت بھی مجھ کو دو ملازموں کو برخاست کرنے کی ضرورت پیش آئی ہے۔ایک۔۔۔صاحب اور دوسرے۔۔۔صاحب یہ دونوں صاحب احمدی بھی ہیں اس سے اور بھی طبیعت میں پیچ و تاب ہے۔میرا جی نہیں چاہتا کہ کوئی لائق آدمی ہو اور اس کو بلا قصور موقوف کر دوں اب دقت یہ پیش آئی ہے کہ کوئی پانچ سال سے میرے ہاں ملازم ہیں مگر کام کی حالت ان کی اچھی نہیں۔اب تک جس کام پر ان کو میں نے لگایا ہے اس کی سمجھ اب تک ان کو نہیں آئی اور انہوں نے کوئی ترقی نہیں کی اور میرے جیسے محدود آمدنی کے لئے ایسے ملازم کی ضرورت ہے کہ جو کئی کئی کام کر سکے وہ اپنا مفوضہ کام پوری طرح نہیں چلا سکتے۔ہاں اس میں شک نہیں کہ نیک اور دیانتدار ہیں مگر کام کے لحاظ سے بالکل ندارد ہیں اور اس پانچ سال کے تجربہ نے مجھے اس نتیجہ پر پہنچا دیا ہے کہ میں ان کو علیحدہ کردوں یہ میری سال گزشتہ سے منشا تھی۔مگر صرف اس سبب سے کہ وہ نیک ہیں دیانتدار ہیں اور احمدی ہیں، میں رکا تھا مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ جو فائدہ ان کی دیانت سے ہے اس سے زیادہ نقصان ان کی عدم واقفیت کام سے ہوتا ہے۔پس اب میں نہایت ہی متردد ہوں کہ ان کو موقوف کر دوں کہ نہیں۔کاش وہ میرا کام چلا سکتے تو بہت اچھا ہوتا۔ایک وقت ہے کہ میں نے ان سے مختلف صیغوں میں کام لیا مگر وہ ہر جگہ نا قابل ہی ثابت ہوئے۔۲۸۲ نواب صاحب کا خدام سے جو مشفقانہ برتاؤ تھا وہ اس امر سے بھی ظاہر ہے کہ مرزا خدا بخش صاحب جو بعد میں غیر مبائع ہو گئے وہ حضرت اقدس کے زمانہ میں بہت سی فتنہ انگیزیوں کا باعث بھی بنے۔حضرت اقدس کی طرح نواب صاحب بھی اغماض اور عفو سے کام لیتے رہے۔حتی کہ خلافت ثانیہ میں پنشن دیتے وقت آپ نے موضع کتے وڈھ ضلع سرسہ کی جائیداد جو ابتداء میں تمہیں ہزار روپے میں خریدی گئی تھی۔اور آپ کا اس میں یہ حصہ تھا مرزا صاحب کو بطور پنشن دے دیا۔بعد میں نہری زمین ہو جانے کی وجہ سے آٹھ مربعے بن گئے اور بہت قیمتی جائیداد ہوگئی۔اسی طرح کئی ایک ملازموں کی بیواؤں کا مدت العمر وظیفہ جاری رکھا حالانکہ ان کے بچے جوان ہوئے کمانے لگے۔صاحب اولاد ہوئے لیکن وظیفہ بند نہ کیا۔ان کی لڑکیوں کی شادیاں کیں