اصحاب احمد (جلد 2) — Page 396
396 ہندوستان کا دورہ کیا۔چنانچہ ۴ جنوری ۱۹۰۴ء کو قادیان بھی آئے۔اب آپ اس اعلیٰ پایہ کے پادری کی زبانی حضرت نواب صاحب کی بابت سنیئے۔بیان کرتے ہیں۔”مرزا صاحب اور ان کے مریدوں کی سادہ مزاجی قابل تعریف ہے اور اس میں شک نہیں کہ وہ اس معاملہ میں پکٹ اور ڈوئی پر سبقت لے گئے ہیں۔۔۔مرزا صاحب کے مریدوں میں سادگی کی مشہور و معروف مثال ریاست مالیر کوٹلہ کے نواب میں موجود ہے کہ جنہوں نے اپنی ریاست کے انتظام اور عیش و عشرت کو لات مار کر ایک چھوٹے سے مکان میں رہنا اور دل و جان سے مرزا صاحب کی خدمت کرنا پسند کیا ہے۔ایسے تعلیم یافتہ لیکن سادہ مزاج نواب سے میری ملاقات ہونا میرے لئے قادیان کی ایک اعلیٰ ترین یادگار ہے۔“ خدام و ملازمین سے حسن سلوک ZA نواب صاحب قطر تا سخت گیر نہ تھے ملازمین سے ہمیشہ نرمی سے پیش آتے۔پرانے خادموں اور ان کے متعلقین سے مل کر خوش ہوتے۔عزیزوں کی طرح ان کا حال دریافت کرتے ان کو صلاح و مشورہ دیتے۔اس وقت یوں معلوم ہوتا تھا کہ ان لوگوں کے ہی کنبہ کا کوئی آدمی ان سے بات کر رہا ہے ان کے وجود میں ایک خدا داد رعب تھا۔ان کے ہر انداز میں وقار تھا جو ہر وقت کی پرائیویٹ زندگی میں بھی نمایاں نظر آتا تھا۔ان کا گھر میں ہنسنا ، بولنا ، بے تکلف صحبت اور گھر والوں سے محبت بھی ایک وقار کا پہلو اپنے اندر لئے ہوئے ہوتی جو ایک عجیب اثر اور ایک کشش رکھتی تھی۔اس میں دل کی سختی اور غرور ہرگز نہ تھا۔بلکہ وہ طبعاً نہایت سادہ مزاج تھے۔ان کا دل غریب تھا۔غرباء سے بہت محبت اور رغبت رکھتے تھے پنکھا جھلنے والی چماریوں کے بچوں کو بھی اپنے ہاتھ سے کھانے پینے کی چیز لا کر دینا اور ان سے پیار کی باتیں کرنا گرمیوں کی دو پہر میں روز کا مشغلہ ہوتا تھا۔(ن) میاں نور محمد آپ کا ملازم تھا اس کی بیوی غوثاں تھیں ( یہ غوثاں اہلیہ بھائی مددخاں صاحب کے علاوہ تھی ) دونوں مالیر کوٹلہ سے آپ کے ساتھ ہی یہاں آئے تھے۔غوثاں کی طرف سے شکایت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس پہنچ جاتی تو حضور ہمیشہ اس کی سفارش فرماتے۔ایک دفعہ عجیب پیرایہ میں حضور نے نواب صاحب کونرمی کرنے کی تلقین فرمائی۔بعد میں حضور نے نور محمد اور غوثاں کو اپنے پاس ملازم رکھ لیا لیکن ان کے متعلق حضرت اقدس کا مشار الیہ مکتوب درج ذیل کیا جاتا ہے۔