اصحاب احمد (جلد 2) — Page 389
389 میں ہمیں ایک علیحدہ کمرہ دیا ہوا تھا اور ہمارا ٹیوٹر ہمارے ساتھ رہتا تھا، والد صاحب اس بات کا خاص اہتمام کرتے تھے کہ ہم عام لڑکوں سے مل کر اپنے اخلاق خراب نہ کر لیں۔اسی وجہ سے عرصہ تک ہمیں سکول میں داخل نہ کیا۔نیز مرقوم ہے کہ۔۲۱ دسمبر ۱۹۰۳ء کو بعد از نماز مغرب عالی جناب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کے صاحبزادوں کی آمین بہ تقریب ختم قرآن مسجد خورد میں ہوئی، ان کے استاد صاحبزادہ پیر منظور محمد موجد قاعداً لیسرنا القرآن کے لئے جو سر و پا نواب صاحب کی طرف سے تجویز ہوا تھا وہ حضرت اقدس کے سامنے پیش ہوا اور درخواست کی گئی کہ ان کو دست مبارک لگایا جائے۔اسی تقریب آمین کی خوشی میں ۳ دن تک بتدریج دعوت کا سلسلہ عالی جناب نواب صاحب کی طرف سے رہا اور بتدریج احباب ایک ایک وقت کا کھانا ☆☆ تناول فرماتے رہے۔“ اس بارہ میں معزز الحکم رقم طراز ہے: وو۔۔۔نواب۔۔۔۔۔۔صاحب کے صاحبزادگان کے ختم قرآن شریف کی تقریب پر ۲۱ دسمبر ۱۹۰۳ء عید کے روز بعد نماز مغرب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت عالی میں بغرض دعا پیش کیا گیا ہے جس کو عام اصطلاح میں آمین کی تقریب کہتے ہیں۔حضرت اقدس نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اور کل حاضرین نے آپ کے ساتھ مل کر دعا کی۔ہم اپنے محسن و مخدوم نواب صاحب کو اس مبارک تقریب پر مبارک باد دیتے ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ حضرت حجتہ اللہ کی وہ دعائیں جو آپ نے اس تقریب پر کی ہیں اللہ تعالیٰ قبول فرما کر ہم سب کو ان ثمرات سے بارور کرے۔آمین۔حضرت نواب صاحب اپنے بچوں کی تربیت کے لئے جو جوش اور توجہ رکھتے تھے وہ ان نصائح سے بھی ظاہر ہے جو آپ نے مکرم میاں محمد عبد الرحیم خاں صاحب کو بیرسٹری کی پریکٹس شروع کرتے وقت کیں۔* مراد خلعت ۲۷۳ الحکم میں اس بارہ میں مرقوم ہے نواب صاحب ممدوح نے اس تقریب پر دارالامان کے احباب کو ایک دعوت بھی دی ہے۔66 ۲۷۴ * وہ نصائح درج ذیل کی جاتی ہیں۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم ۱- نیت ہمیشہ صاف رکھو انسان دین دنیا میں ہمیشہ نیت کا پھل کھاتا ہے۔