اصحاب احمد (جلد 2) — Page 381
381 دار السلام۔دارالامان قادیان ۱۷-۷ - ۴۳ ڈاکٹر صاحب سلمکم اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم ورحمتہ وبر کاتہ۔آپ کا خط مورخہ ۲۹ جون ۴۳ء مجھے ملا۔جواباً بقیہ حاشیہ: - قصہ مختصر۔جناب والا نے حضرت مسیح کو باخدا بزرگ۔مجد د تسلیم کر کے بیعت کی تھی اور جس سے جناب کو انکار نہیں ہے۔بلکہ اس کا اقرار ہے پس یہ مجدد جو تجدید دین اسلام کے لئے آیا ہے اس کا ماننا ضروری ہوتا ہے۔اور اس کے نہ ماننے سے سلب ایمان ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے وہ خدا کے ساتھ ہم کلام ہوتا ہے۔اور وحی ولایت سے وہ انعام حاصل کرتا ہے جس کا وعدہ بوجہ اتباع حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم امہ مسلمہ میں تا قیامت موجود رہے گا۔اور یہ مجدد اپنے زمانے میں مرسل۔مامور فرستادہ اور امام ہوتا ہے۔اور یہ مسلمانوں کا فرض ہوتا ہے کہ اس پر ایمان لاوے اور جو ایمان نہ لاوے وہ فاسق ہوتا ہے۔ایک سچی شہادت کی موجودگی میں ادھر اُدھر پھیرنا مومن کا کام نہیں ہے اور پس شہادت کو چھپانا ظاہر کرتا ہے کہ دل میں گناہ کی مرض ہے۔پس خدا تعالیٰ جناب والا کو اس قسم کی مرض یا کمزوری سے محفوظ رکھے۔میرا مطلب مختصر یہ ہے کہ اس وقت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب کے وقت میں جو نئے عقائد بمقابل حضرت مسیح موعود علیہ السلام تراشے گئے ہیں اور ان کی جماعت ان کو مانتی ہے دراصل وہ مسیح موعود کی اصل تعلیم سے انحراف کرتی ہے۔پس اس عریضہ کے ذریعے سے جناب والا کی توجہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصل دعوی مجدد کی طرف مبذول کرانے کے لئے معروض ہوں۔امید ہے حضرت مسیح موعود کے ان پاک الفاظ پر غور فرمائیں گے تاکہ ہم سب کا بھلا اس میں ہو۔آپ چوٹی کے صحابی ہیں اور آپ کی سچی شہادت تا قیامت قائم رہے گی۔خدا کرے آپ اپنے اقرار پر قائم ہوں۔میں اپنا ایک اشتہا ر خدمت عالی میں روانہ کرتا ہوں: شہادت حضرت نور الدین علیہ الرحمة مندرجہ ازالہ اوہام حصہ دوم مرزا جی اس صدی کے مجدد ہیں اور مجدد اپنے زمانہ کا مہدی اور اپنے زمانہ کی شدت مرض میں مبتلا مریضوں کا مسیح ہوا کرتا ہے۔اور یہ عمل بالکل تمثیلی ہے۔جیسے مرزا جی اپنی الہامی رباعی میں ارقام فرما چکے ہیں۔کیا شک ہے ماننے میں تمہیں اس مسیح کے جس کی مماثلت کو خدا نے بتا دیا حاذق طبیب پاتے ہیں تم سے یہی خطاب خوبوں کو بھی تو تم نے مسیحا بنا دیا والسلام دعا گو حسن علی گورنمنٹ پنشنر سب اسٹنٹ سرجن گوجرانوالہ دوسرے شعر کو غلط نقل کیا گیا تھا یہاں صحت کے ساتھ درج کیا گیا ہے (مؤلف)