اصحاب احمد (جلد 2) — Page 376
376 دیں۔اس امر میں فروگذاشت نہ ہو۔ہم جانتے ہیں کہ اس سال متعدد مرتبہ آپ لوگوں کو قادیان آنے کی ضرورت پیش آئی ہے مگر دوستو ! اس موقع پر جو ہر طرح سے خدمت دین کا موقع ہے ہمیں وقت اور روپیہ کا سوال یقینا نہیں روک سکتا ہم یقین کرتے ہیں کہ حضرت امیر المومنین کے حکم کی تعمیل کے لئے آپ اپنی جماعت کے قائم مقام ۱۱ را پریل ۱۹۱۴ ء کی شام کو یہاں بھیج دیں گے۔اللہ تعالیٰ آپ کے اس وقت کو جو اس کی راہ میں خرچ کرنیگے انشاء اللہ ضائع نہیں کریگا۔را تمان ( مولوی ) سید محمد احسن امروہی (نواب ) محمد علی خاں۔ڈاکٹر (خلیفہ ) رشید الدین ، مولوی شیر علی از قادیان دارالامان ۱۴ ر ا پریل ۱۹۱۴ء ان کے سامنے حضور نے ۱۲ اپریل ۱۹۱۴ء کو ایک تقریر میں بالوضاحت بیان کیا کہ انبیاء اور ان کی قائم مقامی میں خلفاء کا کیا کام ہوتا ہے اور بتایا کہ حضرت خلیفتہ اُسی اول کی وصیت قرآن مجید کے بیان کردہ انبیاء و خلفاء کے کام کی تشریح ہے اور معترضین کے ان اعتراضات کے جواب دیئے کہ خلیفہ صاحب مشورہ کے پابند نہیں تو اس مشورہ کا کیا فائدہ ہے انجمن کا حق غصب کیا ہے یہ لوگ شیعہ ہیں یہ پیر پرستی ہے۔خلیفہ کی عمر چھوٹی ہے اور اس نے کیا خدمت کی ہے اگر خلیفے نہ ہوں تو کیا مسلمانوں کی نجات نہ ہوگی جب مسلمانوں میں خلافت نہ رہی تھی تو اس وقت مسلمانوں کا کیا حال تھا۔نیز حضور جو تبلیغ کو وسعت دے کر تمام زبانوں کے جاننے والے مبلغ تیار کرنا اور ہندوستان میں تبلغ کا جال پھیلانا اور اور دینوی ترقی کے لئے نیا کالج قائم کرنا چاہتے تھے اس کا ذکر کیا نیز اس بارہ میں مشورہ طلب کیا کہ چونکہ انجمن کے بعض ممبروں نے بیعت خلافت نہیں کی اس لئے انتظام میں دقتیں پیش آتی ہیں کیونکہ وہ ہمبر سمجھتے ہیں کہ انجمن جانشین ہے اور خلیفہ کے ماتحت نہیں۔حضور نے غور کے لئے اپنی تجاویز پیش کیں۔کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک رؤیا ء کی بنا پر ہر قسم کا چندہ میری معرفت بھیجیں۔مجلس شوری کی ایسی صورت ہو کہ ساری جماعت کا اس میں مشورہ ہو۔فی الحال دو تین علماء بطور ممبر انجمن میں زائد کئے جائیں تا کہ اختلاف کی وجہ سے دقتیں نہ پیدا ہوں۔مولوی سید محمد احسن صاحب کی صدارت میں اجلاس ہوا فرمایا کا رروائی میں نواب صاحب یا منشی فرزند علی صاحب اس مجلس میں سیکر ٹری کے طور پر کام کریں اور مجلس میری تجاویز کے علاوہ نواب صاحب اور عرفانی صاحب کی تجاویز پر بھی غور کر لے۔سوان دونوں نے بطور سیکرٹری کام کیا اور ان کی طرف سے اسماء نمائندگان جو ایک سونوے تھے اور کارروائی شائع ہوئی۔چنانچہ اس اجلاس میں ایک فیصلہ یہ ہوا کہ قواعد صدر انجمن کی دفعہ ۱۸ میں الفاظ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جگہ حضرت خلیفہ مسیح مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب خلیفہ ثانی درج کئے جائیں باتفاق آراء ا قرار پایا که یه ریز ولیوشن بخدمت مجلس