اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 371 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 371

371 بہت بہتر ہے آپ ہی ان اصحاب کو جمع کر کے کوئی فیصلہ فرما دیں کتب خانہ کے معاملہ میں مولوی غلام نبی صاحب کو بھی مشورہ میں شامل کر لیا جائے۔خاکسار مرزا محمود احمد نوٹ۔یہ دونوں تحریریں مؤلف کو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب دام فیضہم سے دستیاب ہوئی ہیں۔آپ فرماتے ہیں کہ میں دونوں تحریروں کو پہچانتا ہوں اور تصدیق کرتا ہوں کہ حضرت نواب صاحب اور حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی قلمی ہیں۔استحکام خلافت کے لئے نواب صاحب کی مساعی خلافت ثانیہ کا انتخاب تو ہو چکا لیکن مصائب کے بادل اب زیادہ گھٹا ٹوپ صورت میں افق پر چھا گئے تھے۔محض انتخاب سے یہ فتنہ ختم نہ ہونا تھا بلکہ اس کے استیصال کے لئے بہی خواہان خلافت کی ان تھک مساعی درکار تھیں۔چنانچہ اس سلسلہ میں نواب صاحب کو بھی ذیل کے کام کرنے کی توفیق ارزانی ہوئی اور بالآخر اس فتنہ کے بادل چھٹ گئے اور جماعت کا اکثر حصہ ہدایت کی طرف آ گیا۔فالحمد اللہ علی ذالک۔نواب صاحب نے اس بارہ میں جو مساعی کیں ان کا تھوڑ اسا تذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے۔انتخاب خلافت ثانیہ وتحریک بیعت کا اعلان پون صد کے قریب احباب کی طرف سے ۱۵ / مارچ ۱۹۱۴ء کو ذیل کا اعلان جاری کیا گیا جس میں پہلا نام مولوی محمد احسن صاحب کا دوسرا نواب صاحب اور بعد ازاں صاحبزادگان مرزا بشیر احمد صاحب، مرزا شریف احمد صاحب اور میاں عبدالحی صاحب کے اسماء درج ہیں۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم اعلان برادران - السلام عليكم ورحمة الله وبركاته حضرت سید نا خلیفتہ المسیح امیر المؤمنین نور الدین رضی اللہ عنہ بقضائے الہی ۱۳ مارچ ۱۹۱۴ء کو بعد از نماز جمعہ اس جہان فانی سے دار جاودانی کو رحلت فرما گئے۔انا الله وانا اليه راجعون۔اللهم الحقه بالرفيق