اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 353 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 353

353 اسٹیشنوں اور مضافات میں شائع اور تقسیم ہوا ہے۔اس ٹریکٹ پر مولوی محمد علی صاحب کے دستخط تھے جس کے پڑھنے سے معلوم ہوا کہ وہ ان کی ہی جانب سے ہے اور ان کی تصدیق مولوی غلام حسن صاحب کی ( کی ) ہوئی ہے۔اس پر میاں صاحب نے خیال کیا کہ فتنہ بہت بڑھ گیا ہے اس لئے سب احباب ( کو ) جو کو ٹھی میں موجود تھے اٹھایا کہ دعا کرو۔مجھ کو بھی اٹھایا اور ٹریکٹ بھی دیا میں اور سب احباب حیران ہوئے کہ اس اصلاح والی تحریر کو جو میاں صاحب شائع کرنا چاہتے تھے (اور بوجہ مولوی محمد علی صاحب کے روکنے کے اور حضرت خلیفہ المسیح مرحوم کی وفات کے سبب سے شائع نہ ہوسکی ) کو شائع کرنا باعث فتنہ مولوی محمد علی صاحب نے قرار دیا اور اپنا ٹریکٹ جو سراپا اختلاف ہے اس کو شائع کر دیا۔اور ٹریکٹ سے معلوم ہوا کہ یہ حضرت خلیفہ اسیح مرحوم کے انتقال سے کوئی ہفتہ عشرہ پہلے لکھا جاچکا اور طبع بھی حضرت کی زندگی میں ہوا۔اور ادھر حضرت کی وفات کی تار پہنچی اور یہ شائع ہو گیا کیونکہ اس پر مولوی غلام حسن صاحب کے بھی دستخط ہیں۔بس جب وہ آئے تھے اسی وقت یہ منصو بہ ہوا اور یہ مضمون لکھا گیا اور طبع کرا کر رکھا گیا۔اب آپ خود غور فرمائیں کہ میاں صاحب اور ہمارا کیا ارادہ تھا۔اور ادھر سے کیا ہوا۔باوجود اس کے میاں صاحب نے صبح آٹھ بجے بروز شنبہ بتاریخ ۱۴ مارچ مسجد نور میں ایک نہایت دلسوز اور پر اثر تقریر کی اور اس میں بھی جماعت کو دعا کے متعلق زورد یا کسی اختلاف کا تذکرہ نہیں کیا۔لیکن مولوی محمد علی صاحب نے نہایت غیظ و غضب سے ایک تقریر نہایت جوش سے کی اور اس میں اختلافات کا تذکرہ کیا۔اس کے بعد ہم سب آگئے۔پھر میاں صاحب نے اپنے رشتہ داروں کو الگ مشورہ کے لئے اکٹھا کیا۔چنانچہ مندرجہ ذیل اشخاص اس میں شریک تھے حضرت صاحبزادہ بشیر الدین اس ٹریکٹ کا ذکر الحکم جلد ۱۸ نمبر ۴ صفحه ۳ بابت ۲۱ مارچ ۱۹۱۴ء میں ہے۔مکرم بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کا بیان ہے کہ یہ ٹریکٹ میں نے لا کر حضور کی خدمت میں پہنچایا تھا۔چنانچہ ان کی طرف سے اس امر کا ذکر الحکم جوبلی نمبر (صفحه ۳۳) میں ہو چکا ہے۔اور مکرم عرفانی صاحب بھی اس امر کی تائید کرتے ہیں۔(مؤلف) ** آئینہ صداقت صفحہ ۱۸۷ پر اس مشورہ کا ذکر ہے لیکن وہاں ان کے اسماء درج نہیں۔حضرت مولوی شیر علی صاحب کا بیان ہے کہ اہل خاندان کے ساتھ مشورہ کیا کہ خواہ کوئی خلیفہ ہو ہم بیعت کریں گے۔اور اس مشورہ میں نواب صاحب، صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب، صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب، اور صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کے نام بیان کئے ہیں۔نواب صاحب کا بیان خود مشورہ میں شامل ہونے کی وجہ سے مشرح ہے۔(مؤلف) ۲۵۴