اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 287 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 287

287 پس عزیزہ امتہ الحفیظ کا وجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صداقت کے نشانوں میں سے ایک بہت بڑانشان ہے ، اس لئے میں نے یہ عرض کیا ہے کہ اس نکاح کو دوسرے نکاحوں پر فضیلت اور خصوصیت حاصل ہے اور ان معنوں میں یہ نکاح ایسا ہے جس کے مقابلہ میں دنیا کا اور کوئی نکاح اس شان اور مرتبہ کا نہ ہو گا۔کیونکہ یہ نکاح اللہ تعالیٰ کے ایک نبی بلکہ عظیم الشان بنی کی صداقتوں میں سے ایک صداقت ہے میں نے جو یہ چند آیات پڑھی ہیں ان کا خطبہ نکاح میں پڑہا جانا مسنون اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات طیبات سے ثابت ہے۔ان آیات میں زن و مرد کے تعلقات نکاح کے اغراض اور آئین پر روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا کہ ایک مسلم جو نکاح کرتا ہے اور اسلام زن و شوہر کے تعلقات قائم کرنے کی ہدایت دیتا ہے تو وہ کس غرض پر مبنی ہونے چاہئیں۔ان آیتوں میں ایک لفظ کا بڑا تکرار آیا ہے اور وہ تقویٰ کا لفظ ہے۔گویا خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کے نکاح کی غرض ہی تقویٰ رکھی ہے۔تقویٰ ایک ایسی چیز ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَمَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا یعنی اگر انسان کے راستہ میں کسی قسم کی مشکلات ہوں اور وہ ان سے نکلنا چاہے اور وہ نکلنے کی طاقت نہ رکھتا ہو تو تقویٰ کرے اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اس کے لئے وہ سامان پیدا کر دیگا جن کی وجہ سے ان مشکلات سے مخلصی پا جائے گا۔پھر فرمایا يَرُزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ اور اس کو تقوی اختیار کرنے کی وجہ سے بلا حساب اور بلا تکلیف رزق دیا جائے گا گویا اس میں یہ بتایا کہ اگر ایک ایسا انسان ہو جس کو نکاح کرنے کی ضرورت ہو لیکن نکاح کرنے کے سامان موجود نہ ہوں اور وہ عاجز مفلس اور کنگال ہو تو اسے چاہئے کہ تقویٰ اختیار کرے۔تقوے اسے یہ ہوگا کہ جس قدر مشکلات بھی اس کے راستہ میں روک ہوں گی خدا تعالیٰ ان کو دور کر دے گا اور اس کو ان سے نکال دیگا، دوسرا زن و شوہر کے تعلقات کے بعد بھی مشکلات بڑھ جاتی اور پیدا ہو جاتی ہیں مثلاً رزق کے متعلق اور ایسا ہی اولا دوغیرہ کے متعلق تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے بھی فرماتا ہے کہ جب تمہارے تعلقات قائم ہونے سے تمہیں یہ مشکلات پیش آئیں گی تو تقومی کرنے سے یہ بھی دور ہو جائیں گی اور اللہ تعالے خود تمہیں رزق دے گا اور اس قدر دے گا جو بغیر حساب کے ہوگا اور بلا محنت ہوگا بشرطیکہ تم متقی ہو جاؤ۔اس لحاظ سے یہ بات اولا د پر بھی چسپاں ہوسکتی ہے کہ جو نکاح تقومی کی غرض سے کیا جائے گا اس سے جو اولاد ہو گی وہ بہت پاکیزہ اور کثرت سے ہوگی اور ایسے رنگ میں ہوگی کہ تمہیں اس کا وہم و گمان بھی نہ ہوگا کہ کس طرح سے نیک ہو گئی ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق مشاہدات سے اور نیز تاریخ سے ثابت ہے کہ ان کی اتنی اولاد ہوئی کہ شاید ہی کسی اور نبی کی ہوئی ہوگی اس کا باعث یہی تھا کہ انہوں نے تقویٰ کے لئے نکاح کیا اور ان کا تقویٰ بہت بڑا تقویٰ تھا۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں۔میں کبھی آدم کبھی موسئی کبھی یعقوب ہوں نیزا ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار