اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 275 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 275

275 سے اور گو اس شہرت کا چنداں خیال نہیں اور میرے جیسی طبیعت والے کو تو چنداں تر قد نہیں ہوتا۔مگر ایسی شہرت کا اثر بچوں پر سخت ناگوار پڑتا ہے عبد الرحمن کو جو ابتلا آئی ہے وہ ایسی ہی شہرت کی وجہ سے ہے اس لئے بہر حال اس امر کا فیصلہ ہو جانا چاہئے تا کہ لوگ خواہ مخواہ کی مبارکبادوں سے رک جائیں۔چونکہ ابھی یہ معاملہ گومگو میں ہے اور اگر میرے ہاں یہ رشتہ کی گفتگو نہ ہوتی تو ضرور تھا کہ میں بھی شاید مشورہ دینے کی عزت حاصل کر سکتا مگر چونکہ یہ معاملہ میری ہی جانب سے اٹھا ہے اس لئے حضور مشورہ میں شریک نہیں فرما سکے۔مگر میں مناسب سمجھتا ہوں کہ خواہ مخواہ دخل در معقولات کی معافی چاہ کر کچھ عرض کر دوں تا کہ اس معاملہ میں حضور کو اور حضرت ام المومنین علیہا السلام کو رائے قائم کرنے کا زیادہ موقعہ مل جائے اور ممکن ہے کہ عمدہ نتیجہ پر پہنچنے کے لئے یہ مددگار ہو اور اللہ تعالیٰ خاص اپنے فضل سے اس میں برکت ڈال دے۔اوّل اس رشتہ کی تحریک دراصل میں ۱۹۰۸ء میں بحضور حضرت مسیح موعود علیہ السلام مرحوم مغفور بذریعہ مرزا خدا بخش صاحب کر چکا ہوں جس کے جواب میں حضرت اقدس نے فرمایا تھا کہ 'والدہ محمود نے تو خواب میں دوسرے بچے یعنی عبداللہ خاں کو دیکھا ہے اور آپ عبدالرحیم کی بابت کہتے ہیں اور فرمایا کہ سردست جب تک مبارکہ کی رخصت نہ ہولے اس بارہ میں سر دست گفتگو نہیں ہو سکتی۔جب مبارکہ رخصت ہو جائے گی اس وقت اس کی بابت گفتگو کی جائے گی۔اس وقت مجھ کو معلوم ہوا تھا کہ حضرت ام المومنین علیہا السلام کو دیا ہوئی ہے کہ عبد اللہ کا رشتہ حفیظ سے ہو جائے ورنہ مجھ کو اس کا کوئی علم نہیں تھا۔معلوم نہیں کہ اس کا تذکرہ حضرت اقدس ( نے) حضرت ام المومنین سے فرمایا یا نہیں۔دوم: ایک دنیاوی اور کچھ مصلحت کا خیال مجھ کو اس رشتہ کا محرک ہوا تھا وہ یہ کہ حضرت اقدس نے میرے رشتہ کے وقت لکھا تھا کہ تمہاری جانب سے تو ہم کو اطمینان ہے۔مگر ورثاء کا خیال کر کے ہم مناسب تصور کرتے ہیں کہ مہر دو سال کی آمدنی چھپن ہزار روپیہ ہو میں نے عرض کیا کہ میری یہ آمدنی اس وقت نہیں تو فرمایا مضائقہ نہیں۔خداوند تعالے نے پھر آمدنی بھی بڑھا دی بجائے اکیس کے اٹھائیس ہزار سالا نہ ہو گئی پس اس مصلحت سے مجھ کو خیال آرہا ہے کہ موت و حیات کا پتہ نہیں۔عام قاعدہ کے مطابق بعد میں وراثت کے جھگڑے پڑتے ہیں ، اور اس وقت جو بظاہر پہلے مطیع یا متفق نظر آتے ہیں وہ بیگانے بن جاتے ہیں موجودہ میری اولا دنہایت خورد سال اور مبارکہ بیگم صاحبہ بھی نا تجربہ کار دوسری اولاد بڑی۔اس لئے اگر ان میں بھی ایسی بات پیدا ہو جائے کہ ان کو بھی حضرت اقدس کی اولاد اور میری اولاد سے بے تعلقی نہ ہو جائے یا کم از کم ایک کو جس کا رشتہ ہو جائے گا۔اس کو تو نہیں ہوگی اور وہ تو کسی قدر ممد و معاون ہو سکتا ہے۔اس خفیف سی مصلحت سے بھی میں اس رشتہ کو مناسب سمجھتا تھا۔دوسرے میں اپنی پہلی اولا د کو حضرت اقدس کی دعاوں میں شامل کرنا چاہتا تھا