اصحاب احمد (جلد 2) — Page 274
274 لئے کہا تھا آج تقریباً ہفتہ ہو گیا ہے۔میں نے تمہاری پسند کے اظہار پر درخواست کر دی ہے اور آج چالیس دفعہ استخارہ ختم ہو گیا ہے پس مزید احتیاط کے لئے تم کو لکھتا ہوں کہ مجھ کو تم پر جو حسن ظن ہے اس کی بناء پر میں نے یہ تعلق چاہا ہے پس تم سمجھ لو کہ یہ میری اور تمہاری بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔اگر تم اپنے میں پورا حوصلہ رکھتے ہو کہ جس طرح میں نے لکھا ہے تم نبھا سکو گے تو اس جگہ قدم رکھنا چاہئے ورنہ دین دنیا کا خسارہ ہے۔یا مکن با پیل باناں دوستی یا بنا کن خانه در خورد بیل میرے نقشِ قدم پر چلنا ہوگا۔ی تعلق میں صرف اس لئے چاہتا ہوں کہ تم لوگ بھی اہلبیت میں داخل یہ کہ۔ہو جاؤ اور یہ بڑی سعادت ہے مگر اگر ذرا مزلّت قدم ہوا، پھر دین بھی گیا پس خوب سوچ سمجھ لو۔دوسری (بات) مجھے خوش کرنے کیلئے یہ تعلق نہ کرنا بلکہ اگر تم واقعی سچے دل سے پسند کرتے ہو اور محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ایسا کرتے ہو تو مجھ کو جو تمہارے دل میں ہے صحیح لکھوتا کہ مجھ کو اطمینان ہو اور اگر بدل تم کو پسند نہیں اور محض میرے خوش کرنے کو مانا تو باز آ جاؤ اور میں انکار کر بھیجتا ہوں ابھی وہاں سے جواب نہیں آیا۔بات گومگو میں رہ جائے گی۔مگر پھر دقت ہوگی اور اگر واقعی تمہاری اپنی ہی اصل غرض ہے کہ رشتہ امتہ الحفیظ سے ہو تو مجھ کو پوری طرح مطمئن کرو۔میں سوائے اس کے اور کسی خیال سے نہیں لکھتا۔صرف اپنے اطمینان قلب کے لئے لکھا ہے اور مزید احتیاط کے طور سے کیونکہ بھاری ذمہ داری (ہے) اس لئے ایک دفعہ اور تم سے پوچھنا مناسب سمجھا۔راقم محمد علی خاں نواب صاحب کی طرف سے یاددہانی سلسلہ جنبانی کے دو ہفتہ بعد نواب صاحب نے دوسری بار ذیل کے ذریعہ سے یاد دہانی کرائی : دار السلام ۲۵ مئی ۱۹۱۴ء بسم الله الرحمن الرحيم سیدی حضرت خلیفتہ مسیح علیہ السلام مکرم معظم سلکم اللہ تعالی۔ایک عریضہ حضور کی خدمت میں دربارہ رشتہ امتہ الحفیظ پیش حضور کیا تھا مگر تا حال جواب باصواب سے سرفراز نہیں ہوا۔جس سے گمان غالب تھا کہ استخارہ ومشورہ کے سبب جواب میں تاخیر ہوئی اور غالباً میر محمد اسمعیل صاحب کے آنے کا بھی انتظار ہو گا۔اب میر صاحب بھی آ کر چلے گئے مگر جواب کے متعلق ہنوز روز اول ابھی یہ معلوم ہی نہیں کہ حضور کی جانب سے انکار ہوگا یا اقبال مگر تمام جگہ شہرت عام ہو گئی۔خواہ یہ ہماری جانب سے کسی کی بے احتیاطی ہو گئی یا اس طرف