اصحاب احمد (جلد 2) — Page 272
272 کر سکتے ہو تو رشتہ کی طرف توجہ کرنا ورنہ پھر بہتر ہے کہ تم ہاں نہ کرنا۔دوسرے، رشتہ کے بعد حضرت مسیح موعود یا اہل بیت حضرت مسیح موعود سے ہمسری اور ہم گئی کا خیال اکثر لوگ کر بیٹھتے ہیں اور اس سے ابتلاء آتا ہے۔قابل غور امر یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود کے ساتھ رشتہ کیوں چاہا جاتا ہے۔صاف بات ہے کہ جب ان کے کپڑے تک بابرکت ہیں تو ان کے جگر کے ٹکڑے کیوں نہ بابرکت ہوں گے اور نبی جن کی وجہ سے ان کی بیوی ماں بن گئیں تو پھر اس ماں کی کیا کچھ عزت ہونی چاہئے۔تعلق رشتہ کو موجب برکت و فخر سمجھنا چاہئے اور اپنے آپ کو وہی من آنم کہ من دائم سمجھنا چا ہئے۔۔۔۔۔میں نے رشتہ کیا اور زینب کو حضرت صاحب کے ہاں دیا ان دونوں رشتوں میں برابری کا خیال بالکل دل سے نکال دیا جس طرح میں حضرت اقدس کی عزت کرتا تھا وہی عزت و ادب بعد رشتہ رہا اور ہے۔اور جس طرح حضرت ام المومنین علیہا السلام کا ادب اور عزت کرتا تھا اسی طرح اب مجھ کو عزت اور ادب ہے اور اس سے بڑھ کر۔اسی طرح جس طرح پاک وجود کے ٹکڑوں کی میں عزت کرتا تھا ویسی اب ہے میں تمہاری والدہ کی ناز برداری اس لئے نہیں کرتا کہ وہ میری بیوی ہیں گو مجھ کو شریعت نے سکھلایا ہے۔مگر میں جب میاں محمود احمد صاحب اور میاں بشیر احمد صاحب اور میاں شریف احمد صاحب کو قابل عزت سمجھتا ہوں اور مجھ کو ان کا ادب ہے اسی طرح مجھ کو تمہاری والدہ اور امتہ الحفیظ کا ادب ہے بلکہ مجھ کو سلام۔مظفر احمد۔ناصر احمد۔اور حاشیہ: - ہزار روپیہ انعام دے کر رخصت کیا۔اور جواہل کا رساتھ آئے تھے ان کی پانچ چھ ماہ تک خوب خاطر تواضع کی اور کئی کئی کھانے روزانہ ان کے لئے تیار کئے جاتے تھے اور ان اقارب کی امید سے بڑھ کر آپ نے حسن سلوک کیا لڑکی کی والدہ نے بار بار کہا کہ میں ماموں صاحب کی سختی سے بہت ڈرتی تھی مگر کیا سمجھا تھا اور کیا نکلا اور بہت خوش رہیں (م) مکرم میاں محمد عبد الرحمن خاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ والد صاحب نے بعض اخلاقی مصالح کی بنا پر میری شادی کے لئے سخت شرائط طے کی تھیں۔والد صاحب رُخصتانہ کے موقعہ پر برات میں منشی احمد الدین صاحب گوجرانوالہ میر عنایت علی صاحب لدھیا نوی حضرت بھائی عبدالرحیم صاحب قادیانی (حال درولیش) اور ہم دونوں بھائیوں اور ایک دو خادم کو لے کر گئے۔انہوں نے برات کے لئے کھانا تیار کیا ہوا تھا۔والد صاحب نے کھانا کھانے سے صاف انکار کر دیا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ والد صاحب کا خیال تھا شرعا برات کا لڑکی والوں کے ہاں جا کر کھانا کھا نانا جائز ہے سوائے اس کے برات کسی اور شہر سے آئی ہو۔والد صاحب اس پر سختی سے عمل پیرا تھے۔میری شادی بغیر رسوم کے سادگی سے ہوئی۔