اصحاب احمد (جلد 2) — Page 271
271 ناراض ہوں گا۔۔۔۔۔۔۔اب میں پھر رشتہ کے متعلق لکھتا ہوں اس معاملہ ( میں) ایک مشکل بھی ہے اگر تم اس مشکل کی برداشت بقیہ حاشیہ : - اور خوشبو ہوگی کسی قسم کا زیور ہماری جانب (سے) نہ ہوگا۔آپ کو اختیار ہے جو چاہیں جہیز میں دیں۔ہاں بے تکلفی سے کہا جاتا ہے۔بے کا رسمی کھڑاک رشتہ داروں کے جوڑوں دوسری الڑ کھلٹر نہ ہونے چاہئیں۔زمانہ حال کے مطابق قابل استعمال لباس و زیور اور باقی اگر آپ کو دینا منظور ہی ہو تو نقد کی صورت میں کیونکہ مثلاً بعض لوگ سامان دیتے ہیں وہ بے فائدہ ہوتا ہے اور بے کار اور بعض مقامات کے مناسب حال نہیں ہوتا اس کی بجائے اگر نقد ہو تو لاہور وغیرہ سے قریب کا قریب مناسب سامان مل سکتا ہے اور مناسب زیور کے سوازیور کا بھی روپیہ ہونا چاہئے یہ صرف بے تکلفی سے لکھا ہے کہ زمانہ حال کے مطابق بات ہو اور جو سامان ہولڑ کی کے لئے کارآمد ہو۔پرانی طرز میں بہت سامان بے کار جاتا ہے (لفظ پڑہا نہیں گیا ناقل ) اور سوائے صرف بے جا کے کوئی نتیجہ نہیں مثلاً چاندی کے پلنگ کی بجائے اگر آج کل کے طرز کے پلنگ ہوں تو وہ زیادہ خوب صورت اور کارآمد ہوتے ہیں اسی طرح برتنوں کا حال ہے مثلاً چاندی کے برتن شرعاً نا جائز ہیں اسی طرح اور بعض فضول امور۔ان امور کی تشریح کی ضرورت نہ تھی۔صرف آپ کو سمجھانے کے لئے لکھا ہے کہ بعد میں رشتہ منظور ہونے کے بعد پھر ان امور میں بدمزگی ہو ورنہ اصل امور ہر سہ گا نہ بالا میں سب کچھ آگیا۔پہلے اوپر کی تین باتوں کے بموجب رشتہ کی منظوری ہو جائے تو پھر بعض امور موقع (کے) مناسب موقع کے مطابق مجھ کو طے کرنے ہوں گے۔مگر وہ انہی اوپر کی باتوں کے ماتحت ہیں۔پس اگر آپ کو میری اس طرز خاص کی حالت میں رشتہ منظور ہوا اور آپ اس میں مختار ہوں تو پھر ایک ہفتہ کے اندر ہاں نا سے مطلع کریں اور اگر آپ کو روائی میں مشورے کی ضرورت ہو تو جہاں تک جلد ممکن قبولیت یا عدم قبولیت سے مطلع کریں اور بات مجھ سے کریں مجھ سے براہ راست بلا تو سل غیرے کریں اور لپیٹ کی یا گول بات نہ ہو پس جو کچھ ہوصاف صاف ہو ور نہ مجھے الجھن ہوگی اور ممکن ہے کہ بنی بنائی بات بھی بگڑ جائے فقط را قم محمد علی خاں نواب احمد علی صاحب نے گراں بہا جہیز دیا اور حضرت نواب صاحب کو کہا کہ آپ جا کر دیکھ لیں لیکن آپ نے دیکھنے سے انکار کر دیا۔لڑکی والوں کا کڑی شرائط کی وجہ سے خیال تھا کہ غالباً جہیز کا سارایا بیشتر حصہ لڑکی کو نہ دیا جائے گا۔لیکن آپ نے کبھی بھی اسے نہیں دیکھا بلکہ سب لڑکی کے پاس ہی رہنے دیا جو لوگ جہیز چھوڑنے آئے تھے انہیں ڈیڑھ ہزار روپیہ انعام دیا اسی طرح جو دلہن کو چھوڑنے آئے تھے انہیں بھی ڈیڑھ دو