اصحاب احمد (جلد 2) — Page 270
270 کی صاحبزادی سے ہو اور مجھ کو اس لئے یہ تحریک ہوئی ہے کہ اس وقت میں تم کو نسبتا دیکھتا ہوں کہ دوسرے بھائیوں کی نسبت تمہیں دین کا شوق ہے اور اس سے میں خوش ہوں مگر ساتھ ہی میں یہ کہتا ہوں میری خوشی اور ناراضگی حالات پر مبنی ہے جس طرح اب میں تم سے خوش ہوں اگر تم خدانخوستہ اب حالت بدل دو تو پھر میں بقیہ حاشیہ محترمہ بیگم صاحبہ نواب احمد علی خاں صاحب حضرت نواب صاحب کی بھانجی تھیں ان کو اس رشتہ کے متعلق آپ نے ذیل کا مکتوب ارسال فرمایا: بسم الله الرحمن الرحيم دار السلام دارالامان قادیان ضلع گورداسپور (۲۱ / اپریل ۱۹۴۱ء) عزیزہ ام سلمک اللہ تعالیٰ۔السلام علیکم۔ہمشیرہ صاحبہ نے کئی بار آپ کی صاحبزادی کے متعلق تذکرہ کیا۔لیکن بعض ایسے ہی حالات کے سبب سے اس طرف میری توجہ نہیں ہوئی۔ہر ایک بات کا ایک وقت ہوتا ہے غالبا اللہ تعالیٰ کے حکم میں یہ وقت آ گیا کہ میں آپ کو اس طرف متوجہ کروں کہ آپ میرے لڑکے عبدالرحمن کو اپنی فرزندی میں لے لیں یعنی میرے لڑکے عبد الرحمن کا رشتہ اپنی لڑکی کے لئے قبول کریں۔آپ میری بیٹی ہیں اس لئے بے تکلفی (سے) یہ ظاہر کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ آپ کو میری انوکھی طرز کا علم ہو گا مجھے بہت کچھ شریعت اور کچھ زمانہ کی حالت ( نے ایسا کر دیا ہے کہ بہت ہی کم لوگ میرے ساتھ متفق ہو سکتے ہیں ، دو دفعہ پہلے اپنے لڑکے کے رشتہ میں اس انوکھے پن سے رشتہ قائم کر کے رشتہ سے دستبردار ہونا پڑا ہے قریباً دوسروں کو میرے طرز کی برداشت نہیں ہوتی۔جب مردوں کو میری طرز کی برداشت نہیں تو آپ کو جو عورت ہیں اور جن کو رسم رسوم کا زیادہ خیال ہوتا ہے کہاں برداشت کر سکتی ہیں۔مگر میں اپنے اصول میں مجبور ہوں اس لئے چند باتیں لکھتا ہوں ان پر غور کر کے رشتہ کی منظوری یا عدم منظوری سے اطلاع دیں۔اول: مہر پانچ ہزار ۵۰۰۰ ہوگا۔میں تو اس سے بھی کم پسند کرتا ہوں مگر یہاں تک ہرج نہیں۔دوم: نکاح کسی جمعہ کو عصر اور مغرب کے درمیان ہوگا اور کوئی احمدی صاحب نکاح پڑہا ئیں گے۔سوم کوئی نام و نمود کی رسم اور نہ ہی کوئی مروجہ رسوم یا شگون ہوں گے۔بالکل سادہ شرعی نکاح ہوگا۔یعنی اس طرح کہ ہماری جانب سے محض ایک جوڑا پار چہ اور کچھ خوشبونکاح کے وقت ہوگا۔سوائے اس کے سگائی ہوگی اور نہ اس کے متعلق کسی قسم کی رسم اور نہ بری اور دوسری رسوم بس ہماری جانب سے وہی ایک جوڑا