اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 231 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 231

231 بعد چند آیات قرآنی پڑھیں اور پھر عربی زبان کی ضرورت اور خوبیوں پر مختصر ریمارکس کرتے ہوئے عربی عبارت کی تفسیر اور تشریح کی اور نکاح کی ضرورت اور اس کے فوائد پر بحث کی۔۔اللہ تعالے اپنے فضل و کرم سے اس تعلق کو جانبین کے واسطے اپنی رحمتوں اور برکتوں کا موجب کرے۔آمین ہم ذیل میں اس مبارک نکاح کا خطبہ درج کرتے ہیں۔خطبہ نکاح جو حضرت حکیم الامتہ نے صاحبزادی صاحبہ مبارکہ بیگم کے نکاح کی تقریب پر ۱۷ فروری ۱۹۰۸ء کو ۶ ۵ ہزار مہبر پر نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ سے ہوا مسجد اقصی میں پڑھا۔ایڈیٹر خطبہ نکاح الحمد لله نحمده ونستعينه ونستعفره ونومن به ونتوكل عليه ونعوذ بالله من شرور انفسنا و من سيّات اعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلله فلا هادى له واشهد ان لا اله الا الله وحده لاشریک له و اشهد ان محمداً عبده ورسوله اما بعد اعوذ بالله من الشيطان الرحيم بسم الله الرحمن الرحیم (خطبہ مسنونہ کی آیات پڑہیں ) نکاح نام ہے اس تقریب کا جب کسی عورت یالڑ کی کا کسی مرد کے ساتھ رشتہ یا عقد کیا جاتا ہے اس میں اولا اللہ تعالے کی رضامندی دیکھ لی جاتی ہے کہ اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجازت ہے یا نہیں؟ پھر یہ دیکھا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ضابطہ اور عملدرآمد کے موافق ہے یا نہیں؟ پھر لڑکیوں کے ولی کی رضامندی ضروری ہے اگر ولی رضامند نہ ہوں اور پھر کوئی نکاح ہو تو ایسے نکاح بدیوں میں مل جاتے ہیں اور ان کے نتائج خراب اور نا گوار ہوتے ہیں ایسا ہی لڑکیوں اور لڑکوں کی رضامندی بھی ضروری ہے ان پانچ رضامندیوں کے بعد گویا نکاح ہوتا ہے ، اور اگر ان میں کسی ایک کی بھی رضا مندی اور مخالفت ہو تو پھر اس میں مشکلات پیدا ہوتے ہیں۔یہ پانچ رضامندیاں کیا ہیں حق سبحانہ اللہ تعالیٰ کی اجازت ( یعنی ان رشتوں میں نہ ہو جن کی ممانعت کی گئی ہے ) آپ کے مہبط وحی جناب محمد رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا عملدرآمد ولیوں اور طرفین کی رضامندی کے بعد جب ایک فریق منظور کرتا ہے اور دوسرا اس کو قبول کرتا ہے تو یہ نکاح ہوتا ہے۔قسم قسم کی بدیوں اور شرارتوں کو روکنے کے لئے اعلان اور خطبہ نکاح آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی