اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 226 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 226

226 منظور اور انتظار ممکن۔محمد علی خاں یا داشت ارذوالحجہ ۱۳۲۵ھ مطابق ۱۵ جنوری ۱۹۰۸ء آج مرزا خدا بخش حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السّلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور میری شادی کے متعلق تذکرہ ہوا۔اور مبارکہ بیگم کی نسبت جو میرا پیغام گیا ہوا تھا اس کے متعلق ذکر ہوا۔اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا کہ ہم بھی ایک برس کو جواب دیں گے۔یہ مرزا خدا بخش صاحب ( نے ) مجھے آ کر کہا اب دیکھئے کب شادی ہوتی ہے۔محمد علی خاں۔حضور کی طرف سے مہر کی تعیین بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔میری لخت جگر مبار کہ بیگم کی نسبت جو آپ کی طرف سے تحریک ہوئی تھی میں بہت دنوں تک اس معاملہ میں سوچتا رہا۔آج جو کچھ خدا نے میرے دل میں ڈالا ہے اس شرط کے ساتھ اس رشتے میں مجھے عذر نہیں ہوگا اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ کو بھی اس میں تامل نہیں ہوگا ، اور وہ یہ ہے کہ مہر میں آپ کی دو سال کی آمدن جا گیر مقرر کی جائے یعنی پچاس ہزار روپیہ اور اس اقرار کے بارے میں ایک دستاویز شرعی تحریری آپ کی طرف سے حاصل ہو۔میں خوب جانتا ہوں کہ آپ نہایت درجہ اخلاص میں گداز شدہ ہیں اور آپ نے ہر ایک پہلو سے ثبوت دے دیا ہے کہ آپ کو جان فشانی تک دریغ نہیں۔مگر جو کچھ میں نے تحریر کیا ہے وہ اول تو آپ کی خدا دا د حیثیت سے بڑھ کر نہیں اور پھر آپ کی ذات کی نسبت نعوذ باللہ اس میں کوئی بدگمانی نہیں۔محض خدا نے میرے دل میں ایسا ہی ڈال دیا ہے۔اور ظاہری طور پر اس کے لئے ایک صحیح بناء بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ موت حیات کا اعتبار نہیں اور آپ کے خاندان کے عمل درآمد کی رو سے عورتیں اپنے شرعی حقوق سے محروم ہوتی ہیں اور اگر بعد میں کچھ گزارہ تجویز کیا جائے تو وہ مشکوک اور (نہ) اپنے اختیار میں ہوتا ہے اور خدا آپ کی اولاد کی عمر دراز کرے وہ بعد بلوغ اپنے اپنے خیالات اور اغراض کے پابند ہوں گے۔اور حق مہر کا فیصلہ ایک قطعی امر ہے اور ایک قطعی حق ہے جو خدا نے ٹھہرا دیا ہے اور عورتیں جو بے دست و پا ہیں اس حق کے سہارے سے ظلم سے محفوظ رہتی ہیں۔آپ کی زندگی میں اس مہر کا مطالبہ نہیں لیکن خدانخواستہ اگر لڑ کی کی عمر ہو اور آپ کی عمر وفا نہ کرے تو اس کی تسلی اور اطمینان کے لئے اور پریشانیوں سے محفوظ رہنے کے لئے یہ طریق اور اس قدر مہر کافی ہوگا۔تا کہ دوسروں کے لئے صورت رعب قائم رہے۔یہ وہ امر ہے جس کو سوچنے کے لئے میں آپ کو اجازت نہیں دیتا۔ایک قطعی فیصلہ ہے اور میں نے ارادہ کیا ہے کہ اگر ان دونوں باتوں کی