اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 222 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 222

222 پردہ کے نہایت سختی سے پابند تھے حتی کہ خادمات کی عفت و عصمت کی بھی بہت تشدد سے حفاظت کرتے تھے۔خادمات کے مردوں سے خلائلہ کی اجازت نہ تھی۔ڈیوڑھی پر پانچ چھ معمر آدمی پہرہ دار کے طور پر متعین ہوتے جن پر ایک جمعدار جو داروغہ ڈیوڑھی کہلاتا۔افسر ہوتا۔خادمات جو اندر سے آتیں یا اندر جاتیں ان کے لئے با قاعدہ اجازت نامے بنے ہوئے تھے۔والد صاحب ناچ گانے بجانے سے انتہائی نفرت رکھتے تھے اور بیاہ شادی یا ولادت کسی موقعہ پر بھی اجازت نہ دیتے تھے۔ایک دفعہ مالیر کوٹلہ میں آپ دو پہر کے وقت آرام کر رہے تھے۔ایک میراشن نے گانا بجانا شروع کیا۔اور آپ نے بھی آواز سن لی چنانچہ اُسے سختی سے تنبیہ کی۔مکرم ملک غلام فرید صاحب ایم اے حال ربوہ نے مجھے سنایا کہ قادیان کے نیک ماحول میں چونکہ ایسے تشدد کی ضرورت نہ تھی۔اس لئے بعد میں میں نے نواب صاحب کو سیدہ نواب مبار کہ بیگم صاحبہ کے ہمراہ اپنی کوٹھی سے شہر پیدل جاتے بھی دیکھا ہے۔ملک صاحب کے بیان سے پردہ کے تشدد کی توجیہ کی تصدیق ہو جاتی ہے۔اسلامی پرده پردہ کے تعلق میں حضرت اقدس کے متعلق نواب صاحب فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے پردہ کے متعلق دریافت کیا اس وقت میں ایک کام کے لئے حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔اس وقت صرف میں اور حضرت صاحب ہی تھے اور یہ اس مکان کا صحن تھا جو حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے رہائشی مکان کا صحن تھا حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کے جنوبی جانب بڑے کمرے کی چھت پر تھا۔حضرت اس وقت وہاں تشریف رکھتے تھے۔حضور نے دستار کے شملہ سے مجھے ناک کے نیچے کا حصہ اور منہ چھپا کر بتلایا کہ اس طرح ہونا چاہئے۔گویا آنکھیں کھلی رہیں اور باقی سب ڈھکا ر ہے۔اس سے قبل حضرت مولانا نورالدین صاحب سے میں نے ایک دفعہ دریافت کیا تھا اور آپ نے گھونگٹ نکال کر دکھلایا تھا۔“ یہ روایت کے اصل الفاظ ہیں جو بادنی تغیر الفضل مورخہ ۳۸-۲-۱۴ میں شائع ہو چکے ہیں۔