اصحاب احمد (جلد 2) — Page 211
211 اور کس قسم کے عروج سے متعلق ہے۔میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس کے ظہور کا زمانہ کیا ہے مگر میں کہہ سکتا ہوں کہ کسی وقت میں کسی قسم کا اقبال اور کامیابی اور ترقی عزت اللہ جل شانہ کی طرف سے آپ کے لئے مقرر ہے۔اگر اس کا زمانہ نزدیک ہو یا دور ہو۔سو میں آپ کے پیش آمدہ ملال سے گو پہلے غمگین تھا مگر آج خوش ہوں۔کیوں کہ آپ کے مال کار کی بہتری کشفی طور پر معلوم ہوگئی۔واللہ علم بالصواب نیز دوسری جگہ اسی کشف کے تعلق میں حضور رقم فرماتے ہیں۔بسم الله الرحمن الرحيم ۱۱۴۸ نحمده و نصلى على رسوله الكريم مجی عزیزی نواب صاحب سردار محمد علی خاں سلمہ اللہ تعالی۔السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔مبلغ ۲۸۱ روپیہ آں محب کل کی ڈاک میں مجھ کو مل گئے۔جزاکم اللہ خیر اجس وقت آپ کا روپیہ پہنچا ہے مجھ کو اتفاقا نہایت ضرورت در پیش تھی۔موقعہ پر آنے کی وجہ سے میں جانتا ہوں کہ خدا وند کریم و قادر اس خدمت للّہی کا آپ کو بہت اجر دے گا۔والله يُحِبُّ المحسنین - آج مجھ کو صبح نماز کے وقت بہت تضرع اور ابتہال سے آپ کے لئے دعا کرنے کا وقت ملا۔یقین کہ خدائے تعالیٰ اس کو قبول کرے گا اور جس طرح چاہے گا اس کی برکات ظاہر کرے گا۔میں آپ کو خبر دے چکا ہوں کہ میں نے پہلے بھی بشارت کے طور پر ایک امر دیکھا ہوا ہے۔گو میں ابھی اس کو کسی خاص مطلب یا کسی خاص وقت سے منسوب نہیں کر سکتا۔تاہم بفضلہ تعالے جانتا ہوں کہ وہ آپ کے لئے کسی بہتری کی بشارت ہے اور کوئی اعلیٰ درجہ کی بہتری ہے جو اپنے مقرہ وقت پر ظاہر ہوگی۔واللہ اعلم بالصواب۔خدا وند ذوالجلال کی جناب میں کوئی کمی نہیں۔اس کی ذات میں بڑی بڑی عجائب قدرتیں ہیں اور وہی لوگ ان قدرتوں کو دیکھتے ہیں کہ جو وفاداری کے ساتھ اس کے تابع ہو جاتے ہیں۔جو شخص عہد وفا کو نہیں تو ڑتا اور صدق قدم سے نہیں ہارتا اور حسن خن کو نہیں چھوڑتا اس کی مراد پوری کرنے کے لئے اگر خدا تعالیٰ بڑے بڑے محالات کو ممکنات کر دیوے تو کچھ تعجب کی بات نہیں کیونکہ ایسے بندوں کا اس کی نظر میں بڑا ہی قدر ہے کہ جو کسی طرح اس کے دروازہ کو چھوڑنا نہیں چاہتے اور شتاب باز اور بے وفا ۱۴۹ نہیں ہیں“۔