اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 180 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 180

180 میں جو اسوقت بن رہے تھے۔اس کے بعد کوئی جماعت نہ کھولی گئی۔۱۹۰۵ء میں کالج کے پانچ طلباء میں سے تین کامیاب ہوئے۔کالج کے پرنسپل مولوی شیر علی صاحب بنے اور مفتی صاحب کو ہیڈ ماسٹر اور سپرنٹنڈنٹ کالج مقرر کیا گیا۔مدرسہ کے کھلتے وقت طالب علم ۳۸ تھے۔بعد میں مندرجہ ذیل سالوں کے آخر پر طلباء کی تعداد یہ تھی۔۱۹۰۱ ء۱۴۶۔۱۵۰۶۱۹۰۲ - ۱۵۲۶۱۹۰۳ - ۱۳۲۶۱۹۰۴ - ۱۹۰۵ء۱۳۸۔۱۹۰۶ء۲۰۸۔۹۸ء میں جب مدرسہ شروع ہوا اس وقت مدرسہ کے واسطے کوئی عمارت نہ تھی۔صرف مہمانخانہ میں طلباء کو بٹھایا گیا تھا لیکن جلد ہی مہمان خانے کے متصل دو تین کمرے مدرسہ کے واسطے بنوائے گئے وہ کمرے بعد میں بورڈنگ ہاؤس کے کام آئے۔پھر ۹۹ء اور ۱۹۰۰ء میں اور عمارت بنوائی گئی۔۱۹۰۱ ء میں جب مدرسہ کا انتظام نواب محمد علی خاں صاحب کے سپر د ہوا تو نواب صاحب نے مدرسہ کی عمارت میں ضروری اصلاح کر کے ایک عمدہ اور خوشنما پیرا یہ میں بنا دیا اور ڈھاب کو پُر کر کے بورڈنگ اور ملازمان بورڈنگ کے واسطے کوارٹر بنائے۔آپ کی مدرسہ سے مجبور اعلیحدگی آپ کو مجبور الاہور قیام کرنا پڑا اس لئے آپ کو مدرسہ وغیرہ کے کام سے اس کے مفاد کی خاطر علیحد ہ ہونا پڑا۔چنانچہ مرقوم ہے: مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان کا نیا انتظام بھائیوں کو معلوم ہے کہ کچھ عرصہ سے مدرسہ کا انتظام جناب نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ کے زیر اہتمام تھا۔خاں صاحب موصوف نے محنت اور سعی سے جہاں تک خدا تعالیٰ نے انہیں موقعہ دیا اور توفیق بخشی اس کو چلایا اور بعض مصالح اور مجبوریوں کے سبب سے خاں صاحب کو قادیان سے باہر رہنا ضروری معلوم ہوا۔اس لئے وہ مدرسہ کا انتظام اور نگرانی جیسا کہ چاہئے نہیں کر سکتے تھے۔اور یہ امر ان کی طبیعت پر شاق تھا کہ وہ اس طرح ان فرائض کے ادا کرنے سے قاصر تھے۔جنہیں وہ نہایت ضروری سمجھتے تھے۔حضرت اقدس حجتہ اللہ امام علیہ السلام نے ان کی تکلیف اور مجبوریوں پر نظر کر کے انہیں اس بارگراں سے سبکدوش فرمایا اور مدرسہ کا انتظام پھر ایک کمیٹی کے سپر د کیا جس کے ممبر اصحاب ذیل ہیں۔مولوی نورالدین صاحب۔مولوی محمد علی صاحب شیخ یعقوب علی صاحب اور خاکسار راقم۔اب نہایت ضروری بات جس پر تمام قوم کو توجہ کرنی چاہئے یہ ہے کہ مدرسہ کے لئے مستقل سرمایہ کی ضرورت ہے بعض اوقات ایسے واقعات پیش آ جاتے ہیں کہ قیام مدرسہ کی صورت دشوار معلوم ہوتی ہے۔