اصحاب احمد (جلد 2) — Page 181
181 اس میں شک نہیں کہ مومنین کے کام ابتداء میں ایسی مشکلیں اختیار کرتے ہیں کہ ان کی نسبت کامیابی کی پیشگوئی کرنا ماڈسین ( یعنی Naturalists مولف) کی نگاہ میں دور از کار را مرمعلوم ہوتا ہے۔مگر آخر کا رخدا تعالیٰ کی نصرتیں حسب وعدہ ان کی دستگیری کرتی اور ان کے بگڑے ہوئے کاموں کو زمینی مدبروں کے کاموں سے بڑھ کر سنوار دیتی ہیں۔کیا ہی مبارک اور ایمانوں کو بڑھانے والی تقریر فرمائی حضرت امام علیہ السلام نے اس سے اگلے دن جب کہ مدرسہ کو اپنے خدام کے سپرد کیا۔فرمایا اس وقت جو مالی مشکلات ہیں ان کے لحاظ سے مضطرب نہ ہونا چاہئے دیکھو سکھوں نے کتنا سرمایہ جمع کر لیا اور دکھایا ہے کہ ان کے مدرسہ کی بنیاد مضبوط ہوگئی ہے۔یہ حال ہے اس قوم کا جن کی ترقی زمینی اسباب کی بناء پر اور زمین پر ہے۔ہماری ترقی خدا تعالیٰ کے وعدوں کے موافق اور آسمان پر لکھی جا چکی ہوئی ہے۔ہمیں کبھی نا امید نہیں ہونا چاہئے۔اور فرمایا ہمارے تمام کا روبار کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ہے اور اس کا وعدہ ہے کہ تمام رکاوٹوں کو ہماری راہ سے اُٹھا دے گا۔کوشش کرو اور کوشش سے نہ تھکو۔اور نہ ہارو۔خدا تعالے کے مقرر کردہ اسباب اور جائز وسائل کو مضبوط پکڑو، اور دعائیں بھی کرو، وہ اپنے وعدوں کے موافق خود سب کچھ کر دے گا۔اس وقت نہایت ضروری بات یہ ہے کہ دو ہزار روپیہ ہمارے پاس موجود ہو اور یہ یک مشت چندوں سے بہت جلد جمع ہو جائے اور ماہوار چندہ با قاعدہ ہو۔اور کوئی فرد بھی احمدی جماعت کا چندہ سے باہر نہ رہ جائے۔خواہ کتنی ہی قلیل مقدارا اپنے ذمہ لے۔بہت واضح اور پھاڑ کر لکھنا ضروری نہیں۔مناسب وقت اور تقاضائے مصلحت یہ ہے کہ ہمارے بھائی ہر ایک کام سے اسے اہم سمجھ کر کمر ہمت باندھ لیں اور ہر شہر میں کارروائی کر کے قوم اور خدا تعالے کے نزدیک ثواب اور اجر کے مستحق بنیں۔آخر میں اللہ تعالے کی جناب میں دعا ہے کہ وہ ان چند حرفوں میں اپنی طرف سے برکت رکھ دے اور قوم کے دلوں کو اس کارخیر کی طرف مصروف کرے اور ان کے قلب میں الہام کرے کہ ایک دفعہ ہی غفلت کو چھوڑ کر پوری سعی میں لگ جائیں۔(خاکسار عبدالکریم) ۱۳۴