اصحاب احمد (جلد 2)

by Other Authors

Page 176 of 798

اصحاب احمد (جلد 2) — Page 176

176 مکرم مولوی محمد الدین صاحب فرماتے ہیں کہ یہ کالج صرف دو سال ہی جاری رہا یعنی صرف ایک ہی کلاس نے تعلیم پائی یہ کالج یونیورسٹی کمیشن کی جو لارڈ کرزن کے ماتحت قائم ہوا تھا ھدایات کے ماتحت بند کرنا پڑا کیوں کہ اس نے شرطیں کڑی کر دی تھیں جن کی پاپندی ممکن نہ تھی۔نواب صاحب کو تعلیم کا خاص شوق وشغف تھا۔مدرسہ اور کالج کا انتظام عام طور پر اچھا تھا۔آپ ہمیشہ نئی نئی تجاویز سوچا کرتے تھے۔گواس وقت کالج بند کرنا پڑا لیکن اللہ تعالیٰ نے تقریباً چالیس سال بعد پھر تعلیم الاسلام کالج قادیان میں اور ہجرت کے بعد لاہور میں کھولنے کی توفیق جماعت کو عطا کی اور سنا ہے کہ اب قریب میں مغربی افریقہ میں بھی کھلنے والا ہے اللَّهُم زدفرد۔شروع میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب ہیڈ ماسٹر تھے مگر چونکہ حضرت اقدس ان کو عموماً کر مدین کے مقدمہ میں ساتھ ساتھ رکھتے تھے اس لئے مدرسے کا ہرج ہوتا تھا۔لہذا مولوی شیر علی صاحب کو ہیڈ ماسٹر مقرر کیا گیا۔پہلے طلباء اگر بیمار ہوتے تو حضرت مولوی نورالدین صاحب سے دوائی وغیرہ لیتے مگر نواب صاحب نے مدرسہ کی ڈسپنسری کا علیحدہ انتظام کیا۔اور ڈاکٹر عبد اللہ صاحب ( نومسلم ) کو ملا زم رکھا جو بورڈنگ کے ٹیوٹر بھی تھے۔(ع) مدرسہ کے کام میں شغف مدرسہ اور کالج کے امور میں حضرت نواب صاحب کو جس قدر شغف تھا وہ ان کی چند دن کی ڈائری کے ذیل کے اقتباسات سے ظاہر ہے: بروز جمعه ۱۵/ نومبر ۱۹۰۱ء نو بجے کے (وقت ) مدرسہ اور بورڈنگ ہاؤس دیکھا مکان نہایت بے ترتیب بنے ہوئے ہیں“۔”نماز جمعہ کے بعد گھر آئے۔مولوی نورالدین (صاحب) میری درخواست پر تشریف لائے ، ان سے اپنے حالات امراض اور مدرسہ پر گفتگو ہوتی رہی۔“ ۱۶/ نومبر ۱۹۰۱ء بعد نماز ( فجر ) ایک خط بابت حالات مدرسہ لکھا جس کا یہ خلاصہ تھا کہ حضرت اقدس کا اس مدرسہ سے کیا مقصد ہے۔