اصحاب احمد (جلد 2) — Page 158
158 وقت سے خالی نہیں کہ پہلے مدرسہ کا روپیہ میرے پاس پہنچے اور پھر میں وہ روپیہ کسی دوسرے کے حوالے کر دوں۔بالفعل یہ تمام کا روبار مدرسہ کا نواب صاحب موصوف کے ہاتھ میں ہے۔پس ان ہی کے نام روپیہ آنا چاہئے۔بہر حال اس مدرسہ کے لئے کوئی خاص رقم مقرر ہونی چاہئے جو ماہ بماہ آیا کرے میں پہلے لکھ چکا ہوں کہ قائمی مدرسہ بامید اس نیک نتیجہ کے ہے جس کے ہم امید وار ہیں اسی لئے ہم اس سلسلہ کے ضروری اخراجات میں اس کو شریک کرتے ہیں۔والسلام علی من اتبع الھدی - الراقم المتفقر الی اللہ الصمد غلام احمد عافاه الله واید - 1 مدرسہ کی مالی مشکلات اور نواب صاحب کی طرف سے امداد مدرسہ کا انتظام سہل امر نہ تھا ہر وقت کی پریشانی اور تفکر کا موجب تھا اخراجات کو پورا کرنے کے لئے احباب کو بار بار یاد دہانی کرائی جاتی تھی خود نواب صاحب حد درجہ فیاضی سے ہر قسم کی کمی کو ذاتی طور پر پورا یہ امر ذیل کے اعلان سے بھی ظاہر ہوتا ہے : دار الامان کی ضرورتیں یو مافیو مابڑھ رہی ہیں۔خصوصاً مدرسہ اور مہمان خانہ کی وسعت کا سوال آج کل خصوصیت سے قابل غور ہو رہا ہے۔مدرسہ کی حالت یہاں تک کمزور ہورہی ہے کہ اگلے مہینہ غالبا مدرسہ کے ماہواری اخراجات بھی مشکل سے پورے ہوں“۔۱۲۲ یہ امر ذیل کے دو اقتباسات سے بھی ظاہر ہے۔چنانچہ ایک عید کے موقعہ پر ذیل کا اعلان کیا گیا: عید آ گئی۔اظہار مروت کا وقت آیا۔سیالکوٹ کی معزز اور مقتدر جماعت کی یہ پاک تحریک ہمیشہ اس کی نیکیوں میں از دیا دثواب کا باعث رہے گی۔جو مدرسہ تعلیم الاسلام کی امداد کے لئے اس نے عملی طور پر دو سال ہوئے پیش کی تھی کہ ہر فرد احمدی جماعت کا عید کے دن ایک روپیہ مدرسہ تعلیم الاسلام کی امداد کے لئے دے۔اہل ثروت حسب استطاعت اس سے زیادہ اور کم استطاعت اس سے کم بھی دے سکتے ہیں۔اب چونکہ عید قریب آگئی ہے اور الحکم کا اس سال کا یہ آخری نمبر ہے۔اس لئے ہم تمام احمدی قوم کو یاد دلاتے ہیں کہ وہ اس تقریب پر حسب معمول اپنی قوم کے خادم مدرسہ تعلیم الاسلام کو نہ بھولیں اور عید فنڈ کے بہم پہنچانے میں پوری کوشش کریں اگر ہر ممبر اس قوم کا اس وقت ۴ فی کس بھی دے تو ۲۵ ہزار سے زیادہ روپیہ جمع ہوسکتا ہے۔بحالیکہ اکثر ایسے بھی ہیں جو کئی کئی روپے دیا کرتے ہیں۔بہر حال دینی ضروریات سے آگاہ قوم کو اسی قدر یاددہانی کافی ہے۔