اصحاب احمد (جلد 2) — Page 148
148 با وجود التوائے ہجرت حضرت نواب صاحب کا تقر ربطور ڈائریکٹر آپ بعض موانع اور عوائق کی وجہ سے اسوقت ہجرت نہ کر سکے۔ایک روک تو یہ ہوئی کہ اسی نومبر ۹۸ء میں آپ کی زوجہ محترمہ داغ مفارقت دے گئیں۔اسی طرح بعض اور موانع بھی ہوں گے۔لیکن اب انٹرنس کلاس فروری ۱۹۰۰ء میں کھل چکی تھی ایسے ادارے کے لئے دو ضروریات مہیا ہو نی لازم تھیں۔اول روپیہ جو اس کی ضروریات کا متقی ہو۔دوسرے ایسا شخص جو کما حقہ اس کی نگرانی کر سکے اور پوری دلچسپی سے اس کے انتظام کو چلانے کی اہلیت رکھتا ہو۔اب آپ کی ہجرت کا مزید انتظار نہیں کیا گیا یہ دونوں ضروریات حضرت نواب صاحب کے وجود با جودت میں بدرجہ اتم پوری ہوتی دکھائی دیں اور یہ یقین ہوا کہ آپ اس درجہ ا نتظام وانصرام امور کی قابلیت کے مالک ہیں کہ دور مالیر کوٹلہ بیٹھے ہی تمام امور تسلی بخش طور پر سرانجام دے سکیں گے۔ریز ولیوشن نمبر ۳۰۲ مورخہ ۵ ستمبر ۱۹۰۰ ء سے معلوم ہوتا ہے کہ نواب صاحب نے مدرسہ کو ایک ہزار روپیہ سالانہ مدد دینے کا وعدہ فرمایا۔اس امداد کی قدرو قیمت کا اندازہ اس امر سے ہوتا ہے کہ جیسا کہ حضرت مولوی عبدالکریم صاحب کے ایک مضمون میں مرقوم ہے۔اس وقت تک سب سے زیادہ چندہ مدرسہ کے لئے حضرت مولوی نورالدین صاحب دے رہے تھے جو دس روپیہ ماہوار تھا اور باقی چارا حباب کا ذکر کیا ہے جو پانچ روپیہ یا اس سے زیادہ چندہ دیتے تھے۔نواب صاحب کی امداد کی اہمیت کا اندازہ ہمیں اس سے بھی ہوتا ہے کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے اس مضمون میں تحریک کی ہے کہ ان پانچ کے علاوہ بھی لوگ ٹرسٹی بنیں تا مدرسہ کے اخراجات پورے ہو سکیں۔سو اس وقت جب کہ ساٹھ روپیہ سالانہ دینے والے بھی معدودے چند تھے اس وقت حضرت نواب صاحب نے ایک ہزار روپیہ سالانہ چندہ دینے کی پیش کش فرمائی۔آپ کی امداد کے بارے میں الحکم میں مرقوم ہے: مدرسہ تعلیم الاسلام قادیان کی امداد کے لئے عالی جناب محمد علی خاں صاحب رئیس اعظم مالیر کوٹلہ نے سر دست ایک ہزار روپیہ سالانہ کی امداد منظور فرمائی ہے۔جس کو وہ بارہ سو تک بڑھا دینے کا ارادہ رکھتے ہیں۔یہ امداد مدرسہ کی پابحالی کے لئے مردے از غیب بیروں آید و کاربے بکند کا مصداق ہے۔اللھم زدفزد بطور ڈائرکٹر نواب صاحب کے وسیع اختیارات یہ صرف وعدہ ہی نہیں تھا بلکہ عملاً آپ اس کا ایفاء کرتے تھے۔چنانچہ حضرت اقدس نے اپنے اشتہار