اصحاب احمد (جلد 2) — Page 142
142 حصہ تعلیم کا وہ کتا بیں رکھی جائیں کہ جو میری طرف سے اس غرض سے تالیف ہوں گی کہ مخالفوں کے تمام اعتراضات کا جواب دے کر بچوں کو اسلام کی خوبیاں سکھلائی جائیں اور مخالفوں کے عقیدوں کا بے اصل اور باطل ہونا سمجھا یا جائے۔اس طریق سے اسلامی ذریت نہ صرف مخالفوں کے حملوں سے محفوظ رہے گی بلکہ بہت جلد وہ وقت آئے گا کہ حق کے طالب سچ کی روشنی اسلام میں پا کر باپوں اور بیٹوں اور بھائیوں کو اسلام کے لئے چھوڑ دیں گے مناسب ہے کہ ہر ایک صاحب توفیق اپنے دائگی چندہ سے اطلاع دیوے کہ وہ اس کار خیر کی امداد میں کیا کچھ ماہواری مدد کر سکتا ہے اگر یہ سرمایہ زیادہ ہو جائے تو کیا تعجب ہے کہ یہ سکول انٹرنس تک ہو جائے۔واضح رہے کہ اول بنیاد چندہ کی اخویم مخدومی مولوی حکیم نورالدین صاحب نے ڈالی ہے کیونکہ انہوں نے وعدہ کیا ہے کہ میں اس سکول کے لئے دس روپے ماہواری دوں گا اور مرزا خدا بخش صاحب اتالیق نواب محمد علی خاں صاحب نے دورو پید اور محمد اکبر صاحب نے ایک روپیہ ماہواری اور میر ناصر نواب صاحب نے ایک روپیہ ماہواری اور اللہ داد صاحب کلرک شاہ پور نے ۸ اللہ ماہواری چندہ دینا قبول کیا ہے۔المشتہر میرزا غلام احمد از قادیان ۱۵ر ستمبر ۱۸۹۷ء- تسمیہ مدرسہ حضور کے ارشاد کے بموجب ایک خاص سب کمیٹی ۲۷ دسمبر ۱۸۹۷ء کو ہوئی اس کمیٹی نے تجویز کیا کہ یکم جنوری ۱۸۹۸ء سے پرائمری سکول کھولا جائے جس کا نام حسب ارشاد حضرت اقدس مدرسہ تعلیم الاسلام رکھا جائے۔چنانچہ مدرسہ کا اجراء جنوری ۱۸۹۸ء سے ہوا جو کہ پرائمری تک تھا۔مدرسہ کا اجراء چنانچہ یہ مدرسہ جاری ہوا پونے دوماہ بعد اس بارہ میں جو کوائف شائع ہوئے درج ذیل ہیں : رست تعلیم الاسلام قادیان دارالامان مدرسه جس مدرسہ کی ضرورت اجراء پر اکتوبر ۱۸۹۷ء میں اشتہار دیا گیا تھا جنوری ۱۸۹۸ء سے اس کا افتتاح ہو گیا ہے۔اس وقت ساٹھ طالب علم درج رجسٹر ہیں اور چار مدرس جو سید نا مرزا صاحب کے مشن کے خادم ہیں تعلیم دیتے ہیں۔مدرسہ کے